ویلنٹائن ڈے ، بے حیائی اور فحاشی کا عالمی دن ۔۔۔ تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل

فحاشی ہرمذہب میں ایک قبیح فعل

ارشادباری تعالیٰ ہے۔’’وہ لوگ جوچاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُراچرچاپھیلے ان کے لئے دردناک عذاب ہے دنیااورآخرت میں اوراللہ جانتاہے تم نہیں جانتے ‘‘۔(سورۃ النور19)۔
ویلنٹائن ڈے،عیدمحبت بے حیائی کاعالمی دن ہے ایسے تہوارسے مسلمانوں کوبچناچاہیے۔ ویلنٹائن ڈے جیسابے حیائی کاعالمی دن جوگزشتہ کچھ سالوں سے ہمارے معاشرے میں غیراسلامی ،فضول رسوم، پوری بے حیائی اورشرم وحیاء کے تمام تقاضوں کوبالائے طاق رکھ کرمنایاجارہا ہے ۔ مسلمان اپنی پاکیزہ ثقافت اورعمدہ تمدن کوچھوڑکراغیارکے تہواروں کے دلدادہ ہوتے جارہے ہیں ۔ مغربی طاقتیں متحدہوکراسلامی ثقافت وتمدن کوبے حیاء وعریانیت میں تبدیل کرکے اِسے روشن خیالی اورآزادی کانام دینے کے لئے کوشاں ہیں ۔آزادی کے نام پرغیرمحرم کے ساتھ گھومنے پھرنے اورجنسی تعلقات قائم کرنے کوباعث فخرسمجھاجارہاہے جس کی ہمیں اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔مسلمانوں کوایسے تہواروں سے ہرصورت میں بچناچاہیے ۔جودین ،دنیااورآخرت میں تباہی وبربادی کاباعث ہوں ۔
ویلنٹائن ڈے ،عیدمحبت جوہرسال 14فروری کومنایاجاتاہے ۔اس دن نوجوان لڑکے اورلڑکیاں بلکہ مردوعورت ایک دوسرے کوتحفے تحائف دیکراپنی محبت اوردوستی کااظہارکرنے کے ساتھ ساتھ ناجائزحرام تعلقات کاآغازیاتجدیدکرتے ہیں۔جس کی اسلا م ہرگزاجازت نہیں دیتا۔ چونکہ ویلنٹائن ڈے ،عیدمحبت بے حیائی اورفحاشی کاعالمی دن ہے ۔جسے کسی صورت میں بھی ایک صالح معاشرہ توکیاایک صالح مردبھی اختیارنہیں کرسکتا۔ اس لئے ویلنٹائن ڈے کومنانامذہبی ،اخلاقی،معاشرتی طورپرغلط اورممنوع ہے ۔کیونکہ ہمارادین اسلام نہ صرف برائی کاسدِباب کرتاہے بلکہ برائی کی طرف جانے والے ہرراستے کی حوصلہ شکنی کرتاہے۔یادرہے ویلنٹائن ڈے فحاشی کادوسرانام ہے ۔ اسے معاشرے میں رواج دینافحاشی کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے ۔یہ تہوارغیرمسلموں کاتہوارہے ۔دینِ اسلام میں اسے منانے کی کوئی گنجائش نہیں۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنی لاریب کتاب قرآ ن مجیدفرقان حمیدمیں ارشادفرماتاہے ۔’’مسلمان کافروں کواپنادوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا اورجوایسا کرے گااُسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہامگریہ کہ تم ان سے کچھ ڈرواوراللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتاہے۔اوراللہ ہی کی طر ف پھرناہے‘‘۔(سورۃ اٰل عمران28)۔
ارشادباری تعالیٰ ہے’’اے ایمان والو!یہودونصاریٰ کودوست نہ بناؤ۔وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اورتم میں جوکوئی ان سے دوستی رکھے گاتووہ انہیں میں سے ہے ۔بے شک اللہ بے انصافوں کوراہ نہیں دیتا‘‘۔(سورۃ المائدۃ51)۔
ارشادِباری تعالی ہے’’اورجواسلام کے سواکوئی دین چاہے گاوہ ہرگزاس سے قبول نہ کیاجائے اورآخرت میں زیاکاروں سے‘‘۔(سورۃ اٰل عمران85)۔
جسطرح ہرمذہب اپنے اندرکچھ تہواررکھتاہے ۔دین اسلام میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی قوم کودوتہواردیے ہیں۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو(دیکھاکہ) وہاں کے لوگ دودن کھیل تماشے میں گزارتے تھے۔ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دریافت فرمایا’’ کہ یہ دن کیاہیں‘‘ ؟انہوں نے کہاکہ’’ ہم ایام جاہلیت میں ان دودنوں میں کھیل تماشے کیاکرتے تھے‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا “اللہ تعالیٰ نے ان ایام کے بدلے میں تمہیں ان سے بہتردو ایام یوم الاضحی اوریوم الفطرعطافرمائے ہیں‘‘ ۔ (ابوداؤدالسنن کتاب الصلاۃ باب صلاۃ العیدین)
’’حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے یہ نذر مانی کہ وہ مقام بوانہ میں ایک اونٹ ذبح کرے گا۔ وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ! میں نے بوانہ میں ایک اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے پوچھا کہ کیا بوانہ میں زمانہ جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی وہاں پوجا کی جاتی تھی؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے پوچھا کیا وہاں کفار کا کوئی میلہ لگتا تھا؟ عرض کیا نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس شخص کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ تو اپنی نذر پوری کر کیونکہ گناہ میں نذر کا پورا کرنا جائز نہیں ہے اور اس چیز میں نذر لازم نہیں آتی جس میں انسان کااختیارنہ ہو۔(جس نذرمیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کاعنصرپایاجائے اسے پوراکرناجائز نہیں)۔(ابوداؤد)۔
حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشادفرمایا’’من تشبہ بقوم فھومنھم‘‘۔ ’’جوشخص کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کرے پس وہ انہی میں سے ہے ‘‘۔(ابوداؤد)
ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ’’جب اللہ تعالی نے کفار کی عیدوں میں تماش بینی اور حاضری منع کردی تو عملًا انہیں منانا کہاں جائز ہوسکتا ہے‘‘۔ امام عطاء بن یسار رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں’’ایاکم ورطانۃ الاعاجم وان تدخلواعلی المشرکین یوم عیدھم فی کنائسھم‘‘۔’’نہ مشرکین کی زبان بولو اور نہ ان کی عید کے دن ان کی عبادت گاہوں میں جاؤ‘‘۔
ابن تیمیہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول یہ ارشاد بھی نقل کرتے ہیں کہ’’اجتنبوا اعداء اللّّٰہ فی عیدھم‘‘’’اللہ کے دشمنوں سے ان کی عیدمیں بچو‘‘۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں’’من بنی بارض المشرکین وصنع ینروزھم ومھرجانھم وتشبہ بھم حتی یموت،حشر معھم یوم القیام‘‘’’جو مشرکین کے درمیان رہتا ہے اور ان کی عید نوروز اور تہوار مناتا ہے اور ان کی صورت اختیار کرتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے تو قیامت کے دن ان ہی کے ساتھ اٹھایا جائے‘‘ ۔
مسلمان بھائیو!اللہ تعالیٰ نے اپنی لاریب کتاب میں ارشادفرماکرہمیں بتادیاہے کہ یہودونصاریٰ، مسلمانوں کے ہرگزدوست نہیں ہوسکتے۔ ویلنٹائن ڈے ،عیدمحبت کوئی اسلامی تہوارنہیں بلکہ مشرکین کایہ تہوارہے۔اس لئے عملاًہرصورت میں ہم خودبھی اس تہوارسے دوررہیں اوردوسرے مسلمان بھائیوں کوبھی دوررکھیں۔کیونکہ آج کے پُرفتن دورمیں مسلمان ان کی ثقافت کاقلع قمع کرنے کی بجائے ان کے تہوارمنانے لگ گئے ہیں۔میری مائیں بہنیں بھی بے حیائی اورفحاشی کی عالمی رسم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے لگی ہیں۔جس کی وجہ سے ہم مسلمان ذلیل ورسواہورہے ہیں۔
بنت حوّاکونچاتے ہیں سرِمحفل اب کتنے سنگ دل ہیں کہ رسمِ حیایادنہیں
اب اپنی ذلت کاسبب یہ ہے شاید! سب کچھ یادہے بس خدایادنہیں
آج کے پُرفتن دورمیں کافی عرصہ سے میڈیاپریہ با ت مغرب زدہ افراداورمختلف تنظیموں کی طرف سے پروپیگنڈہ کی صورت میں گردش کررہی ہے۔ کہ اسلام نے عورت کوکچھ نہیں دیا۔بلکہ عورت کواس کے بنیادی حقوق سے محروم کردیاہے ۔حالانکہ یہ سب شیطانی چال ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔کیونکہ معاشرے میں عورت کوجومقا م اسلام نے دیاہے وہ کسی اورمذہب نے نہیں ۔آج انگریزآوازاُٹھاتاہے کہ ہم نے عورت کوعزت دی ہے ۔انگریزنے پہلی مرتبہ عورت کادن منایا۔اورعورت کے حقوق کااعلان 8مارچ1911کوکیا ۔تقریباًآج سے سوسال قبل انگریزکوپتاچلاکہ عورت بھی انسان ہے اس کے بھی کچھ حقو ق ہیں ۔پرقربان جاؤں دین اسلام کی تعلیمات پرآج سے سواچودہ سال قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے معاشرے میں عورت کوعزت کامقام دلایاہے۔حالانکہ دورِجاہلیت میں عورت کوحقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا۔عورت کی معاشرے میں کوئی قدروقیمت نہ تھی ۔ماؤں کے ساتھ لونڈیوں جیساسلوک کیاجاتاتھا۔ عورت بازاروں میں نیلام ہوتی تھی ۔باپ کے مرنے کے بعداپنی ماں کوبیوی بنالیاجاتاتھا۔بہن اورعورت میں کوئی تمیزنہ تھی۔بیویاں کوستایاجاتاتھااورہرقسم کے تکلیف دی جاتی تھی اگرکسی کے گھرمیں بیٹاپیداہوتاتوخوشی کی انتہانہیں رہتی ۔اوراگراسی گھرمیں بیٹی پیدا ہوتی تواسکے گھرغم کاساماں پیدا ہوجاتاتھا۔لوگ اپنی بیٹیوں کوزندہ درگور(زندہ دفنادینا)کردیتے تھے۔عرب والے لڑکی کوجانورسے بھی بدترجانتے تھے ۔ اسلئے بیٹی کی پیدائش پرمذاق اڑاتے ۔اگرکسی گھرمیں اونٹنی کے مادہ پیداہوتی توکچھ طعن نہ کرتے ۔لیکن عورت کے ہاں لڑکی کی پیدائش ہوجاتی تورنج وغم طعن وتشنیع کرتے ۔یوں سمجھ لیجئے کہ جس گھر میں لڑکی پیداہوتی تھی، گویاوہ معاشرے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتاتھا۔اس شرم سے بچنے کے لئے لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ۔لیکن جس وقت میرے پیارے آقا ،رسولوں کے سردارنبی مختار ،تاجدارختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس دنیاپرتشریف لائے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عورت کو معاشرے میں عزت کامقام دیا۔دین اسلام نے جنت کوماں کے قدموں تلے رکھ کرعورت کوعزت وتکریم بخشی ہے ۔اگرعورت بیوی بن کرآئے گئی توتیری عزت بن کرآئے گی۔اگرعورت بیٹی بن کرآئے گی توتیرے لئے رحمت بن کرآئے گی۔اگریہی عورت بہن بن کرآئے گی توتیری غیرت بن کرآئے گی۔
ارشادباری تعالیٰ ہے۔’’اورجب ان میں سے کسی کوبیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تودن بھراس کامنہ کالارہتاہے اوروہ غصہ کھاتاہے۔لوگوں سے چھپتاپھرتاہے۔اس بشارت کی برائی کے سبب کیااسے ذلت کے ساتھ رکھے گا۔یااسے مٹی میں دبادے گاارے بہت ہی بُراحکم لگاتے ہیں‘‘۔(سورۃ النحل58,59)۔
امام بغو ی ؒ کہتے ہیں کہ’’عرب میں یہ رواج تھاکہ جب کسی کے گھرمیں بیٹی پیداہوتی اوروہ اسے زندہ باقی رکھناچاہتاتواسے اونی جبہ پہناکراور اونٹوں اوربکریوں کوچرانے کے لئے دوردرازبھیج دیتااوراگراُسے مارناچاہتاتووہ جب 6سال کی ہوجاتی توکسی جنگل میں ایک گڑھاکھودتا پھرگھرآکراپنی بیوی سے کہتاکہ اُسے خوب اچھالباس پہنادوتاکہ وہ اُسے اس کے ننھیال(یااس کے دادا،دادی) سے ملالائے۔پھرجب وہ اس گڑھے تک پہنچتاتواُسے کہتااس گڑھے کے اندردیکھوچنانچہ وہ اسے دیکھنے کے لئے جھکتی تویہ اسے پیچھے سے دھکادے دیتاوہ اس میں گرجاتی اوریہ اس کے اوپرمٹی ڈال دیتا‘‘۔
آج مسلم معاشرہ میں ایسی خرابیاں دیکھنے کوملتی ہیں جنہیں دیکھ کرمجبوراًکہناپڑجاتاہے کہ یہ انسانی زندگی تونہیں بلکہ شیطانی زندگی ہے ۔ کیونکہ آج نوجوان نسل دن بدن تباہی کے دہانے پرچلی جارہی ہے ۔مسلم معاشرہ میں ہم نے مغرب کی گندی ثقافت کوفروغ دے رکھاہے۔ مسلمانوں نے مسلم معاشرہ میں اسلامی ثقافت کوچھوڑدیاہے حالانکہ ہماری ثقافت دین اسلام کے زیرِاثراوردنیائے اسلام میں اسلامی ثقافت کے نام سے جان اورپہچانی جاتی ہے۔اسلامی ثقافت کواپنااوڑھنا،بچھونابناکرجوبچہ پرورش پاتاہے ۔الگ سے اس کے پاس اپنی ایک خاص پہچان ہوتی ہے۔ جس سے مغربی تہذیب میں پرورش پانے والے بچے ناواقف ہوتے ہیں۔کیونکہ مغربی تہذیب میں پرورش پانے والے بچوں کو زیادہ تراپنے ماں باپ اورخاندان کابھی پتہ نہیں ہوتایہ مادرپدرآزادی دین اسلام اورہماری ثقافت دونوں میں ممنوع ہے ۔دین اسلام نے عورت کوجتنے حقوق عطاکیے ہیں وہ کسی اورمذہب میں نہیں۔جس کاسب سے بڑاثبوت قرآن پاک میں عورتوں کے متعلق ’’سورۃ النساء ‘‘موجودہے۔
دورِجدیدمیں اسلام دشمن قوتیں گھناؤنی سازش کے تحت حجاب (پردہ)کاخاتمہ چاہتی ہیں کیونکہ زمانہ جاہلیت میں حجاب کاکوئی تصورنہیں تھایہودی لابی جودین اسلام اورمسلمانوں کے ازل سے دشمن ہیں اوربے حیائی پھیلانے کے درپے ہیں۔ دین اسلام نے سب سے پہلے حجاب کاتصوردیاحجاب قرآنی حکم ہے جوباربارقرآن میں دہرایاگیاہے حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی حیات ظاہری میں مسلم خواتین نے اس قرآنی حکم حجاب کواپنے لباس کاجزوبنایاکیونکہ پردہ عورت کی زینت ،ڈھال اورحیاء کادوسرانام ہے۔مردوزن پردہ کی وجہ سے بہت سے گناہوں سے نجات پاتے ہیں دورجاہلیت کی طرح ترقی یافتہ دورکے نام پرمسلمان عورتوں پرحجاب نام کاعملی کرداردیکھنے کونہیں ملتااسلام دشمن قوتیں گھناؤنی سازش کے تحت اسلامی شعائرکوختم کرنے کے ایجنڈاپرعمل پیراہیں جوکہ عالمِ اسلام کے لئے بہت بڑالمحہ فکریہ ہے ۔
معاشرے کی اصلاح وترقی اورنسل نوکی تعلیم وتربیت میں عورت اپنامرکزی کرداراداکرسکتی ہے۔اسی لئے ہماری ماؤں،بہنوں،بیٹیوں کوچاہیے کہ اپنے آپ کواسلامی طرززندگی کے سانچے میں ڈھال کرنسلِ نوکی پرورش اورتعلیم وتربیت کریں ۔دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کی طرف ضرورتوجہ دیں ۔کیونکہ یہ واحددینی تعلیم ہے جہاں پرماں ،باپ،اساتذہ کرام،رشتہ داروں اوردوستوں وغیرہ کے ادب وحقوق کادرس دیاجاتاہے۔دنیاوی تعلیم میں اب توایسانصاب دیکھنے کومل رہاہے جسے الفاظ میں بیان کرناممکن نہیں۔اسی لئے دیناوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ دینی تعلیمات پرانسان عمل پیراہوکرخودکوبھی اورمعاشرے کے بگڑے ہوئے حالات کوسنوارسکتاہے ۔اللہ پاک ہماری نوجوان نسل کوہدایت عطاء فرمائے ۔ملکِ پاکستان میں نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نافذفرمائے ۔وطن عزیزکوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے ۔آمین بجاہ النبی الامین
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی میں نے تودل جلاکے سرِعام رکھ دیا

(Visited 18 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *