وُجُود کیا حَباب کا ‘‘۔۔۔ تبصرہ نگار: مجید احمد جائی’’

’’وجو د کیا حباب کا ‘‘گزشتہ چند روز میرے زیر مطالعہ رہی ہے ۔یہ شاعری مجموعہ ہے ،جس کے مصنف مُشبر حسین سید صاحب ہیں ۔ابتداء اللہ تعالیٰ کے نام سے کرتے ہیں اور آقا دو جہاں ﷺ پر دورو سلام پیش کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں ۔انتساب اپنے خاندان کے افراد کے نام کرتے ہیں ۔کتاب کے بارے میں لکھتے ہوئے آگاہ کرتے ہیں ’’وجود کیا حباب کا ‘‘اُن کی تیسری کتاب ہے ۔اس سے پہلے نعتوں کا مجموعہ ’’حرف بقا‘‘اور غزلوں کا مجموعہ ’’وُسعت خیال ‘‘کے نام سے شائع ہو کر پذیرائی پا چکے ہیں ۔یہ کتاب بہت پہلے منظر عام پر آ جاتی مگر آپ کے بھائی ’’سید محسن حسین ‘‘کا انتقال ہو گیا اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے آمین ،جس کی وجہ سے اب مارچ 2017 میں شائع ہوئی ۔کتاب میں کل 56غزلیں شامل ہیں ۔116صفحات پر مشتمل ،خوبصورت سفید کاغذ کے ساتھ ،بہترین سرورق کے ساتھ پیاری اور معیار ی کتاب ہے ۔القلم ادارہ مطبوعات پاکستان ناشر ہیں ۔کتا ب کی قیمت 200روپے ہے ۔
مشبرحسین سید سے ملوانے کا سہرا جناب اسد رضاسحر صاحب کے سر ہے ،جو خود اعلیٰ پایہ کے شاعر ہیں سو ہیں ،اُن کا حلقہ احباب بھی بہترین شعراء حضرات پر مشتمل ہے ۔ان بہترین شعراء حضرات میں سے ایک نام مشبر حسین سید کا بھی ہے ۔آپ سوہنی دھرتی ،محبت کرنے والے خطہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔اٹک کی سرزمین نہ صرف تاریخی حیثیت کی حامل ہے بلکہ اپنے سینے پر نامور لوگوں کوسجائے ہوئے ہے ۔یہ لوگ چاہے شاعر ہوں ،ادیب ہوں ،سیاسی ہوں ،کالم نگار یا صحافی ہوں ،محبتوں کے گیت گاتے نظر آتے ہیں ۔ملک و ملت کی ترقی اور بہبود میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔
بخش دے ہم سبھی کو تو مولی
تیری جنت میں ہو نہ ویرانی
مشبر حسین سید اللہ تعالیٰ کو دوست بناتے ہوئے کہتے ہیں ،یا اللہ !ہم سب کو بخش دے ،اور پھر بڑے لاڈ سے کہتے ہیں کہ تیری جنت میں ویرانی نہ ہو ۔ا یسی باتیں ایک دوست ہی ایک دوست سے کر سکتا ہے ۔مدینے کی طرف سفر ہو تو مسافر کو کہتے ہیں:
بہت ہی پیارے شہیدوں کا اِک خزانہ مدفُون ہے وہاں پر
مدینے جاؤ تو پھر اُحد کے پہاڑ پر بھی مقام کرنا
کہتے ہیں جب مدینے کے پتھروں پر چلو تو ان کا احترام کرنا ،وہاں بیٹھ کر اُنہیں دیکھنا بھی عبادتوں اور اطاعتوں میں شمار ہوتا ہے ۔
وہاں بیتتی ہے حسین اُن پہ کیا کیا
خبر کچھ نہ شہر خموشاں سے آئے
جب اُن کا دل خوف میں مبتلا ہوتا ہے تو پریشان ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شہر خموشاں سے کوئی خبر لانے والا نہیں کہ وہاں رہنے والوں کے ساتھ کیا گزرتی ہے ۔جانے ہمارا کیا حال ہو گا ۔یہ سوچ کر گھبراتے ہیں اور موت کو یاد کرتے ہیں ۔دُنیامیں بسنے والوں کو غرور و تکبر میں دیکھتا ہے تو کہتے ہیں
زمیں پر پاؤں بھی رکھتانہ تھا جو
زمیں کی تہہ میں ہے بے دم مسافر
جب اپنے رب سے مخاطب ہوتا ہے توکہتا ہے
وہ اپنے ہونے کا بھگتے ہے خمیازہ
تری دُنیا میں جو آیا بسر کرنے
جب دُنیا کا مشاہدہ کرتے ہیں تو خوبصورت اظہار کرتے ہیں
جن کی اپنی چھپ نہ پائی بد گُنی
تھوکتے وہ بھی ملے مہتاب پر
دوسری جگہ کہتے ہیں
جگنو نہ رات میں نظر آیا کوئی مجھے
رستے میں بھونکتے ہوئے کتے مگر ملے
مشبر حسین سید کا مشاہدہ وسیع ہے اور اردگر د کے ماحول میں گہری نظر رکھتے ہیں ۔اپنے تجربات اور مشاہدات کو جب زبان دیتے ہیں تو یوں کہتے ہیں
باہر سے تھے ثابت سالم
اندر ٹوٹے چٹخے چہرے
جب اپنے پیاروں کو خود سے جدا کرتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی تلے دفن کرتے ہیں تو اللہ تعالی سے شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں
تُو نے بُلانا تھا گِر واپس
دُنیا میں کیوں بھیجے چہرے
دل میں لگی آگ کس کو کیسے دکھائیں ،کوئی تو دل کی زبان سمجھ جائے ۔جب کوئی اپنا دل کی کیفیات سمجھ نہیں سکتا تو کہتے ہیں
آتش فشاں پہاڑ بھی ہو جاتے ہیں خموش
بجھتی نہیں ہے آگ وہ دل میں لگی ہوئی
وجود کیا حباب کا کی تمام غزلیں پڑھیں تو آپ پہ یہ در کھلے گا کہ مشبر حسین سید اپنے خالق سے زیادہ مخاطب ہوتے ہیں اور ہمکلام رہتے ہیں اب اس شعر کو ہی دیکھ لیں
جب سے آئے ہیں زمیں پر خلد سے
اَے خدا!کیا ہم پرائے ہو گئے
جب زمانے کی بے انصافیاں دیکھتے ہیں تو ان کا کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے اور اس کا یوں اظہار کرتے ہیں
ماں نے بیٹوں کو دعا رورو کے دی
جب مکاں کے چار ٹکڑے ہو گئے
جب معاشرے کی بدعنوانیاں دیکھتے ہیں اور جھوٹ کا راج دیکھتے ہیں تو خود سے کہتے ہیں
جانے لگے ہو شاہ کے دربار میں جو تم
سچ کا بخار کیا وہ تمھارا اُتر گیا
جب سچ بولنے کی پاداش میں سزا پاتے ہیں تو پھر کہتے ہیں
اپنے لبوں پر سچ کی آہٹ جب سے سنی ہے
میں تو مصائب اور آفات لیے پھرتا ہوں
شاعر کی اپنی دُنیا ہوتی ہے اور وہ اپنا دربار سجا کر خود سے ہی ہم کلام رہتا ہے ۔کبھی خود کو منصب صدرات پر بٹھا کر باتیں کرتا ہے تو کبھی خود کو مظلوم بنا کر زمانے کی ستم و ظرف کی باتیں کر تا ہے ۔کبھی خود سے شکوے و شکایات تو کبھی خالق سے اپنے من کی باتیں کرتا ہے اور زمانے کی ناانصافیوں کے بارے اپنے پیدا کرنے والے سے شکایات کے طورپر کہہ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتا ہے۔مشبر حسین سید بھی محفل سجائے ہوئے ہیں اور کبھی اپنے خالق سے دوستانہ انداز میں محو گفتگو ہیں اور شکوے شکایات کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی قبر کی اندھیری رات سے ڈراتے ہیں تو کبھی زمانے کی ستم ظریفیاں عیاں کرتے ہیں اور دل کی دنیا کے پردے چاک کرتے ہیں۔ دل کا حال لفظوں کی صورت بیان کرتے ہیں ۔کبھی نصیحت کرتے ہیں تو کبھی رعب جھاڑتے ہیں ۔کبھی اپنے ہم منصب سے التجائیں کرتے نظر آتے ہیں ۔مشبر حسین سید کا ہر انداز کمال کا ہے ۔خوبصورت لفظوں میں اپنی بات کہہ جاتے ہیں ۔اب اس شعر پر ذرا غور کریں تو
اوروں کے گریباں پہ ترا ہاتھ پڑے ہے
کیا نفس کے جن بھوتوں سے تُو اپنے لڑا ہے
اسی طرح
تم کو بتاؤں کیا کہ میں رہتا ہوں کس جگہ
شعلوں میں جوگھری ہے میں اُس سلطنت میں ہوں
وجود کیا حباب کا کی ہر غزلیں ایک سے بڑھ کر ایک ہے ۔آپ جب اس کتاب کو پڑھیں گے تو عش عش کر اُٹھیں گے ۔ہر شعر آپ کو سوچنے پر مجبور کر دے گا ۔،ہم اس جہاں میں کیوں آئے ،کس لیے آئے ؟دُنیا میں کیا کیا مصائب کا سامنا کرنا پڑا ۔میں دوستوں کو مشورہ دوں گا اگر اپنے دل کی مانتے ہیں تو ’’وجود کیا حباب کا ‘‘ضرور پڑھیں ۔
مشبر حسین سید ہجر وصال کی آگ میں کم کم جلتے ہیں ۔آپ کی شاعری عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف لے جاتی ہے ۔آپ اپنی شاعری میں زمانے کے دردوغم بیان کرتے ہیں ۔آپ کی شاعری بامقصد اور معیاری ہے ۔دوسروں شعراء حضرات کی طرح جدائی ،ہجر ووصال ،محبوب کے ستم ،محبوب کے نخروں کی باتیں کم ہی کرتے ہیں ۔آپ زمانے کی بے انصافیوں کو شاعری میں خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں ۔چوٹ بھی کر جاتے ہیں اورمحسوس بھی نہیں ہونے دیتے ۔
مشبر حسین سید کی کتاب’’وجود کیا حباب کا ‘‘سے انتخاب
آگیا ہے کیا زمیں پر بھی خدا
اس قدر کیوں جھک رہے تھے تم وہاں

آدمی ہی ہے کہ جو رونے لگے          پھول سَو کانٹوں میں بھی دیکھا خوش
اُجڑے اُجڑے مکاں مریدوں کے
گھر تو آباد پیر کا دیکھا
ہستی کو اضطراب میں دیکھا ہے ہر جگہ           کوئی دعا میں گم ہے تو کوئی دوا میں گم

(Visited 42 times, 1 visits today)

One Response to وُجُود کیا حَباب کا ‘‘۔۔۔ تبصرہ نگار: مجید احمد جائی’’

  1. Hello. Greaqt job. I did not imagine this. This is
    a fantastic story. Thanks! http://sanagustin.edu.co/?option=com_k2&view=itemlist&task=user&id=15422

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *