وِسل بلوئرز مالی کرپشن کے خلاف مؤثر جادو ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

ترقی یافتہ معاشروں میں ’’وِسل بلوئر‘‘ بہت اہم چیز ہے۔ یہ اصطلاح ایک ایسے شخص کیلئے استعمال کی جاتی ہے جو اپنی وَرک پلیس میں کسی کرپشن یا غلط کاموں کی نشاندہی کرتا ہے۔ یعنی کسی بھی پبلک آرگنائزیشن کا کوئی بھی ملازم اپنے ادارے میں اپنے ساتھیوں یا سینئرز کی طرف سے کسی کرپشن یا لاقانونیت کو ہوتا دیکھے تو وہ اس سے پارلیمنٹ کے ممبران، عدلیہ یا میڈیا کو آگاہ کرے۔ وِسل بلوئرز کیلئے کسی تربیت یا نیٹ ورک کی نہیں بلکہ صرف درست معلومات، بے غرضی اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح ادارے کا کوئی بھی ملازم یہ فرض اداکرسکتا ہے۔ وِسل بلوئر کا لفظ سب سے پہلے برطانوی پولیس میں استعمال کیا گیا۔ جب ایک پولیس والا کسی جرم کو ہوتے دیکھتا تو وہ وِسل بجا دیتا۔ اس سے اردگرد موجود دوسرے افراد ہوشیار ہوجاتے۔ وِسل بلوئرز کو سوسائٹی کا باقاعدہ حصہ بنانے اور سرکاری اداروں میں اس کو رواج دینے کا کام سب سے پہلے امریکہ میں شروع کیا گیا۔ سرکاری اداروں میں کرپشن اور لاقانونیت کا پتہ لگانے اور اسے ختم کرنے کیلئے وِسل بلوئرز کا نظام بہت مؤثر اور مفید ثابت ہوا جسے امریکی سوسائٹی نے بے حد پسند کیا۔ ان کی دیکھا دیکھی دنیا کے کئی اور ممالک نے بھی اپنے ہاں وِسل بلوئرز کی حوصلہ افزائی کی۔ وِسل بلوئرز کو اپنے ادارے کے باہر اور وفاقی حکومت سے انعام و اکرام و شاباش ملتی لیکن سب سے بڑا خطرہ ان کی اپنی آرگنائزیشنز کا فوری ردعمل ہوتا۔ انتقام کے طور پر ان کے اپنے محکموں میں وِسل بلوئرز کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا جاتا جس میں ان کے عہدے میں تنزلی، سالانہ خفیہ رپورٹوں کو خراب کرنا، دفتری سہولتیں واپس لینا، جھوٹے مقدمے بنانا اور یہاں تک کہ نوکری سے نکال دینا جیسے اقدامات شامل تھے۔ دنیا کے بعض حصوں میں یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ اداروں کے اندر کرپشن اور لاقانونیت کی نشاندہی کرنے پر وِسل بلوئرز کو جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑے مگر وِسل بلوئرز کے نظام کے بہترین نتائج اور سوسائٹی کی بہتری کو سامنے رکھتے ہوئے وِسل بلوئرز نے ہر طرح کے خطرات کا سامنا کیا۔ وِسل بلوئرز کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ ان کے تحفظ کیلئے قانون سازی شروع ہوئی۔ پہلی مرتبہ 1912ء میں امریکہ میں “Lloyd-La Follette Act” پاس کیا گیاجس میں وفاقی ملازمین کو معلومات کانگریس تک پہنچانے کے حق کے تحفظ کی گارنٹی دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ وِسل بلوئرز کو بھی قاعدے قانون کا پابند کیا گیاکہ اگر کسی وِسل بلوئر کی اطلاع غلط یا ذاتی تعصب پر مبنی ہوئی تو اسے “False Claims Act” کے تحت دیگر سزاؤں کے ساتھ ساتھ چھ برس کی قیدِسخت بھی ہوسکتی ہے۔ یوں وِسل بلوئرز ایک مشن کے طور پر کام کرنے لگے۔ وِسل بلوئرز کا نظام ایک فطری عمل ہے کیونکہ انسانی معاشرے میں کچھ لوگ ایسے لازمی ہوتے ہیں جو اپنے اردگرد ہونیوالی برائیوں کو اگر روک نہیں سکتے تو کم از کم ان کی اطلاع بااختیار افراد تک ضرور پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہیں وِسل بلوئرز ہی کہا جاسکتا ہے مگر معاشروں میں ان کے لئے کوئی باقاعدہ قانون یا تحفظ موجود نہیں ہوتا۔ پاکستان میں یہ کام انفرادی سطح پر مختلف شعبوں میں کبھی کبھار نظر آتا ہے۔ جن میں کبھی عدلیہ کے جج صاحبان، کبھی بیوروکریسی کے کچھ افسران یا چھوٹے ملازمین اور کبھی کبھار کوئی سیاسی کارکن وغیرہ شامل ہیں۔ بعض اوقات اس کام کیلئے گمنام خط یا درخواست وغیرہ کا سہارا لیا جاتا ہے جس کی ایک مبینہ مثال وزیراعظم لیاقت علی خان کو ملنے والا ایک مبینہ گمنام خط تھا جس میں انہیں راولپنڈی کے دورے سے منع کیا گیا تھا۔ خط ملنے پر بیگم رعنا لیاقت علی خان پریشان ہو گئیں مگر وزیراعظم لیاقت علی خان نے دورہ ملتوی نہ کیا اور قتل ہوگئے۔ حالیہ دور کی مثالوں میں سب سے اہم مثال پاناما لیکس ہے جس کے ذریعے عوام کو عوامی دولت لوٹنے والوں کی خبر ملی۔ ان تمام اکا دکا واقعات سے قطع نظر شروع سے ہی پاکستان میں وِسل بلوئرز کی ذمہ داری سب سے زیادہ میڈیا پرسنز نے ادا کی ہے۔ تاہم اکیسویں صدی میں پاکستان کے اندر جمہوری سوچ کے بلند ہونے اور سول سوسائٹی کے ترقی یافتہ ہونے سے اداروں کی کرپشن اور لاقانونیت کا زیادہ پتہ چلنے لگا ہے لیکن اب بھی وِسل بلوئرز کی فہرست میں میڈیا سب سے آگے ہے اور ردِعمل کا شکار بھی ہوتا ہے۔ وِسل بلوئرز کے ذریعے سرکاری اداروں کی کرپشن اور لاقانونیت پر بہت خوبی اور آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ وہ اس لئے کہ ادارے کے اندر کا ملازم جتنی بہتر معلومات رکھتا ہے اتنی بہتر معلومات دور بیٹھے نیب یا اینٹی کرپشن کے لوگ نہیں رکھ سکتے۔ لہٰذا اگر پاکستان میں بھی وِسل بلوئرز کے حوالے سے قانون سازی کی جائے تو ہمارے سرکاری اداروں میں موجود کرپشن اور لاقانونیت جیسی چڑیلوں اور بھوتوں کو آسانی سے قابو کیا جاسکتا ہے۔ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت ملک سے کرپشن کے خاتمے کا عزم لئے ہوئے ہے۔ اس حوالے سے وہ جو بھی اقدامات کریں یا نئے قوانین بنائیں، اِن میں اگر وِسل بلوئرز کے قانون کو بھی شامل کرلیا جائے تو عمران خان کو سرکاری اداروں میں پھیلی مالی کرپشن پر قابو پانے میں بہت آسانی ہوگی کیونکہ وِسل بلوئرز کا قانون کرپشن کے خلاف ایک مؤثر جادو ہے۔

(Visited 14 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *