یہود و نصاری، سورہ المائدہ اور مسلم د نیا ۔۔۔ تحریر : حمیدہ گل محمد

آج سوچامعیشت،ورلڈ بینک،عالمی مالیاتی اداروں اور معاشی غلامی میں ڈوبے ہمارے حکمرانوں کی کچھ بات کر لی جائے۔اسی خیال سے اس کالم کو پائے تکمیل تک پہچانے میں قرآن مجید کی سورہ المائدہ کا سہارہ لینا مناسب سمجھا۔سورہ المائدہ کی5 آیت51 میں اللہ پاک نے صاف حکم دیا ہے کہ ” اے ایمان والو!یہودو نصاری کو دوست نہ بناؤ۔یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہی میں سے ہوگا۔ یعنی کافر و مشرک بے شک اللہ تعالیٰ ظالم وگہنگارلوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
جب روس افغان وار ہوئی اس وقت اشتمالیت کے خاتمے کے بعد یہودو نصاری کے لئے اسلام وہ واحد ملک تھا جو ان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی صلاحیت رکھتا تھا آج اسی اسلام کے پیروکار عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے کشکول لے کر کھڑے ہیں جن یہودو نصاری کو دوست تک نہ بنانے کی قرآن میں بات کی گئی۔ آج دنیا میں موجود چندیہودیوں نے پوری دنیا کو اپنے قابو میں کر رکھا ہے اس وقت کائنات میں موجود مسلمانوں کے 56مسلم ممالک کی اکثریت معاشی غلامی،قرض،امداد اور بیرونی سرمایہ کار ی سے محفوظ نہیں ہیں۔
آپ ? نے بھی یہودو نصاری کی چالاکی،مکاری اور سازشوں کی بناء4 پر ان کو مکہ،مدینہ سے دور کیا۔آج یہ المیہ ہے کہ ہم ان ہی یہودیوں سے لین دین کر رہے ہیں،ان کی بنائی ہوئی غذاؤں کو روح و جسم کی زینت بنا رہے ہیں،ان کے لبا س و ثقافت ہماری پہچان بن چکے ہیں۔کھانے پینے کی یہاں تک کہ جسم میں لگانے والے پر فیومز،بالوں میں لگانے والے شیمپو،کلر،اور دیگر اشیاء4 روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔جب ہم رسول کریم ﷺ کی کہی ہوئی باتوں کو نظر انداز کر کے ان سرمایہ دار اور مالیاتی اداروں کے ہاتھوں کٹ پتلی بن چکے ہیں تو پھر آج کس بات کا رونا ہے کہ امریکہ،برطانیہ،اسرائیل اور بھارت ہمارے دشمن ہیں۔
جدال کی کرنسی ڈالر،جدید کرنسی بٹ کوائن آج ہمارے کاروبار کا اہم اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا حصہ بن چکے ہیں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دورے حکومت میں اسلامی بینک بنانے کی بات کی تو ان کو ریاستی و غیر ریاستی اداروں نے موت کی نیند سلا دیا۔مگر ڈالرکو مات دینے کے لئے برکس نے جب 2005 ء4 میں کام شروع کیا تو ان ممالک پر بھی کافی دباؤ ڈالا گیا کہ یہ ممالک اپنی اپنی کرنسی میں کاروبار نہ کریں۔ہم ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ ہمیں لین دین کے طریقے بھی غلط معلوم نہیں ہوتے سودکا نام پہلے آتا ہے پھر آگے کام بڑھتا ہے۔بیشتر اسلامی ملک اس قدر اندھے ہوچکے ہیں اور یہودو نصاری کی چالاکی،مکاری و سازشی جال میں پھنس چکے ہیں کہ اب ان کا اس دلدل سے نکلنا ناممکن دکھائی دیتا ہے اس کی بڑی مثال سعودیہ عرب ہے۔
آج شام،عراق،افغانستان،فلسطین،برما اور کشمیر وغیرہ امریکہ،اسرائیل،برطانیہ اور سرمایہ دار اور دور دراز کے ممالک کو کسی دوسرے ملک کی اندرونی سیاست سے کیوں کر خطرہ لا حق ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود نیٹو،اتحادی فوجیں،داعش،حوثی باغی،آر ایس ایس،سی آئی اے اور را! اپنے چند یہودی سربراہوں کے حکم کی تعمیل میں مسلم ممالک کے اندرونی معاملات سے خطرہ سونگھتے ہوئے ان ممالک کے انفراسٹکچر،معیشت،ثقافت،تا ریخی مقامات سب کو مسمارو نست و نابود کر رہے ہیں۔سرمایہ دار ممالک مل کر خود دہشت گردی کر تے ہوئے ترقی پذیر مسلم ممالک کے قدرتی و معدنی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔نائن الیون کا ڈرامہ رچا کر اس ڈرامے کو شروع کر نے والے یہود و نصاری یہ جان چکے تھے کہ ان کے معدنی تیل کے ذخائر5 202ء تک ختم ہو جائیں گے۔ لہذا ان کی نظر مشرقی وسطیٰ اور چند اسلامی ممالک پر مرکوز ہوگئی جو تیل کی دولت سے مالا مال تھے۔یہ کوئی نئی بات نہیں تھی آپ ﷺ کے زمانے میں بھی روم اور ایران میں بسنے والے یہود و نصاری کی کی عیاشی،گھنونی سازشیں رسول کریم ؟ کے علم میں تھی۔آپ ؟ ان سے ہاتھ ملانے کے بجائے ڈٹ کر مقابلہ کرتے تھے ان کی ایڈ کو بھی آپ ﷺ نے قبول نہ کیا۔
مگر آج کے مسلمانوں کو کیا ہوگیا ہے کیوں وہ یہود و نصاری کے پیچھے پیچھے ہیں؟ان کی رگوں میں پانی بھر گیا ہے،اسلام،قرآن اور نبی پاک ؟ کی احادیث کو بھول چکے ہیں۔صحابہ کرام ؟ اور خلفائے راشدین ؟ کے طرز حکومت کو فراموش کر چکے ہیں۔
انسان خسارے میں ہے اس حدیث کو مسلم دنیا کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورنہ یہ یہود و نصاری خلافت عثمانیہ کی تباہی کی تاریخ کو مسلم ممالک کو تباہ کر کے دہرائیں گے ان کے خلاف ایک ہوکر آواز سر بلند کرنا ہوگی۔سورہ المائدہ کی ان آیتوں کو ہر وقت دل و دماغ میں کسی بھی سبق کی طرح حفظ کرنا ہوگا۔کیوں کہ یہودیوں کے ساتھ لین دین اور ان کے معاشی غلام بن کر ہم اپنا وقار،شاندار فتوحات،عظمت و وقار کو اپنے ہی ہاتھوں سے زمین بوس کر رہے ہیں۔ہمارے حکمران،قوم اور تمام مسلم ممالک کے شہری اسلام کے شیدائی اور امتی رسول ؟ ہونے کے ناطے ہمیں سورہ المائدہ کو سنجیدگی سے لینا ہوگا ساتھ ہی اس میں موجود یہو دو نصاری سے متعلق آیات پر عمل پیرا بھی ہونا ہوگا۔

(Visited 7 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *