ڈاکٹرخورشید رضوی کی صدارت میں یاسمین حمید اور حمیدہ شاہین کے اعزاز میں حلقہ ارباب ذوق کا اجلاس

اتوار،21اکتوبر2018، کی شام حلقہ اربابِ ذوق ،لاہور،رواں سیشن کا30 واں اجلاس سیکرٹری حلقہ عقیل اختر اور جوائنٹ سیکرٹری بابرریاض نے پاک ٹی ہاؤس، لاہور میں منعقد کرایا ۔معروف شاعرات یاسمین حمیداور حمیدہ شاہین کے ساتھ ’’اسی (80) کی دہائی کی دو اہم شاعرات ‘‘ کے عنوان سے ترتیب دیے گئے اس خصوصی اجلاس کی صدارت ڈاکٹرخورشید رضوی نے کی۔

بابر ریاض کی پیش کردہ گزشتہ اجلاس کی کاروائی کی توثیق کے بعد صاحبِ صدارت نے اجلاس کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے فیصل آباد سے خصوصی طورپر تشریف لائے ڈاکٹر طارق ہاشمی کو حمیدہ شاہین کی شاعری پر اپنا مضمون ’’فن بتاتا ہے کہ یہ فن کارہے‘‘ پیش کرنے کی دعوت دی۔مضمون کے بعد حمیدہ شاہین نے اپنا خوب صورت کلام پیش کیا اور بڑی تعداد میں موجود حاضرین سے خوب داد وصول کی۔نمونہء کلام یوں ہے۔

’’ عجیب نخوتِ ابہام سے کلام کیا ۔۔حلال میوہء معنی کو بھی حرام کیا۔۔اِن اہلِ صدق و صفا کو بھی عشق و مُشک سمجھ ۔۔وہیں مہکنے لگے ہیں جہاں قیام کیا‘‘۔حمیدہ شاہین کے کلام کے بعد صاحب صدارت کی دعوت پر ڈاکٹر ابرار احمد نے یاسمین حمید کی شاعری پر اپنا مضمون پیش کیا جس کے بعد یاسمین حمید نے اپنے شعری وتخلیقی تجربے پر گفتگو کی اور اپنا کلام پیش کیااور خوب داد سمیٹی۔ نمونہ ء کلام یوں ہے۔’’کہانی منجمند اک حرف میں رکھی گئی تھی۔۔

سمندرکی نشانی برف میں رکھی گئی تھی۔۔بہت خاموش رہنا مجھ پہ واجب ہو گیا تھا۔۔میری تقدیر میرے ظرف میں رکھی گئی تھی‘‘ ۔آخر میں صاحبِ صدارت کی طرف سے صدارتی تاثرات پیش کیے گئے جس کے بعد حلقہ انتظامیہ کی طرف سے شفیق احمد خان، اقتدار جاوید اور ڈاکٹر امجد طفیل نے حمیدہ شاہین، یاسمین حمید اور ڈاکٹر خورشید رضوی کو پھول پیش کیے۔

اس خصوصی اجلاس میں حاضرین کی کثیر تعداد موجودتھی۔اجلاس کے آخرمیں سیکرٹری حلقہ نے صاحب صدارت ،مہمان شاعرات ، مضمون نگاروں اورحاضرین سے اظہارِتشکر کیا جس کے ساتھ ہی یہ خصوصی اجلاس اختتام پذیر ہو گیا۔

(Visited 9 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *