۔14۔ اگست یوم آزادی درحقیقت پیغام بقائے آزادی ہے ۔۔۔ تحریر : محمّد شفیق شاہد ملک

آزادی ہے تحفہ خدا وند اے بندے
آزادی کی قدر معلوم ہے کشمیر کو بندے
آزادی عظیم ترین تحفہ خداوندی ہے آزدی کی قدر پوچھنی ہے تو کشمیریوں سے پوچھو، آزادی کی قدر پوچھنی ہے تو فلسطین اور روہنگیائی مسلمانوں سے پوچھو۔ یہ آزادی کوئی مفت کا مال نہیں ہے۔ آزادی جانوں کا نذرانہ مانگتی ہے۔ آزادی جوانوں کا لہو مانگتی ہے۔ آزادی معصوم عفت و پاکباز عصمتیں مانگتی ہے۔ آزادی کے لئے خاک و خون کے دریا پار کرنے پڑتے ہیں۔ آزادی طویل لہو رنگ داستان کا نام ہے۔ اللہ نے بندے کو آزاد دنیا میں بھیجا ہے۔ ماؤں نے تو اپنے لال آزاد جنے ہیں۔مگر یہ اٹل حقیقت ہے کہ آزادی قائم رکھنے کے لئے جہد مسلسل رکھنا پڑتی ہے۔ ورنہ
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
برصغیر پاک و ہند میں تو ہمارے آباؤ اجداد نے صدیوں حکمرانی کی تھی۔ خلجی خاندان ، خاندان غلامان، تغلق خاندان، بلبن خاندان، سْوری خاندان، مغلیہ خاندانی تاریک کے روشن اوراق کا اور مسلم حکمرانی کا زریں باب ہیں۔ مگر جب ہم نے خدا سے منہ موڑا ، ہم نے جہاد سے منہ موڑا، خدا ہم سے روٹھ گیا۔اور غلامی ہمارا مقدر بن کر رہ گئی۔ پھر ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بن کر رہ گئی۔ مگر ایسے میں حکیم الامت شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر علیحدہ اسلامی آزاد مملکت کا مطالبہ کیا جسمیں مسلمانان پاک و ہند آزادی سے اپنی مذہبی رسومات ، روایات پر آزادی سے کاربند رہ کر عمل کر سکیں اور آزادی سے زندگی گزار سکیں۔ پھر ایسے میں عظیم نعرہ توحید نعرہ انقلاب نعرہ حریت چھا کر رہ گیا کہ
پاکستان کا مطلب کیا   لا الہ الااللہ
تیرا میرا رشتہ کیا   لا الہ الااللہ
لے کے رہیں گے پاکستان لے کے رہیں گے پاکستان
لے کے رہیں گے آزادی لے کے رہیں گے آزادی
اور پھر گلی گلی ، قریہ قریہ، گاؤں گاؤں، شہر شہر یہ نعرہ حریت پھیل کر رہ گیا اور ہر بچہ ، ہرجوان پاکستان کا پرچم تھامے تحریک پاکستان کا حصہ بنکر رہ گیا۔ اور پھر تحریک   پاکستان ، ہندوستان میں آگ کی طرح پھیل کر رہ گئی اور پاکستان کا مطلب کیا  لا الہ الااللہ کی آواز چھا کر رہ گئی ۔
۔1940۔ کو منٹو پارک لاہور سے قراداد پاکستان سے شروع ہر کر سات سالہ سفر کی یہ عظیم داستان ، عظیم کہانی ، عظیم تحریک سے یہ عظیم سفر، یہ عظیم تاریخ آزادی بنکر رہ گئی۔   مگر نعرہ پھر بھی وہ رہا پاکستان کا مطلب کیا    لا الہ الااللہ   تیرا میرا رشتہ کیا   لا الہ الااللہ
22 لاکھ شہادتیں پیش کی گئیں ۔ ہزاروں عصمتوں کے نذرانے پیش کئے گئے۔ مگر نعرہ پھر بھی وہی رہا۔
پاکستان کا مطلب کیا    لا الہ الااللہ   تیرا میرا رشتہ کیا    لا الہ الااللہ  
خاک و خون کا دریا پار کرنا پڑا۔ جائیدادیں چھوڑنا پڑیں۔ کاروبار چھوڑنے پڑے، پھر دنیا کی سب سے بڑی ہجرت معرض وجود میں آ ئی۔ مگر نعرہ پھر بھی وہی رہا
پاکستان کا مطلب کیا    لا الہ الااللہ   تیرا میرا رشتہ کیا  لا الہ الااللہ
آنکھوں کے سامنے جگر گوشے شہید ہوئے۔ آنکھوں کے سامنے بیٹیوں کی عصمتیں لٹیں۔ مگر پائے استقلال میں لرزش نہ آ سکی۔ نعرہ پھر بھی وہی رہا
پاکستان کا مطلب کیا    لا الہ الااللہ    تیرا میرا رشتہ کیا   لا الہ الااللہ
آج پھر یوم آزادی کا یہی پیغام ہے۔ بقائے آزادی کا پھر یہی پیغام ہے۔ 14 اگست کا یہی پیغام ہے
پاکستان کا مطلب کیا  لا الہ الااللہ    تیرا میرا رشتہ کیا    لا الہ الااللہ
پاکستان زندہ باد ریاست مدینہ پائندہ باد

(Visited 10 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *