“ہمارےطرز زندگی کی وجہ سے ہونے والی بیماری “ذیابیطس

لفظ “ذیابیطس” کو آج کل بیماری کہنا صحیح نہیں کیوں کہ آج کل ہمارے طرز زندگی کی وجہ سےیہ بہت عام ہوگئی ہے۔

اس سے بچاو ممکن ہے بس آپ روز کی ورزش کو معمول بنائیں اور اپنی خوراک احتیاط کے ساتھ لیں۔
جو لوگ ذیابیطس میں مبتلا ہوچکے ہیں ان کا یہ مرض ختم تو نہیں ہوسکتا البتہ آپ اس سے دوستی ضرور کر سکتے ہیں اور یہ بھی ایک دوست کی طرح آپ کے ساتھ رہے گی اور اگر اس کو دشمن سمجھیں گے تو اس سے خطرناک مرض شاید ہی کوئی ہو کیوں کہ فی الحال جدیدسائینس کی دنیا میں اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔
ذیابیطس کو قابو میں رکھ کر ہی آپ ایک اچھی اور صحتمند زندگی گزار سکتے ہیں۔

اگر ٹائپس کی بات کریں تو ذیابیطس کی تین بڑی قسمیں ہیں
1) پہلی قسم کی ذیابیطس اسے ٹائپ ون بھی کہتے ہیں۔یہ عام طور پر چھوٹی عمر میں ہوتی ہے اور اس کا علاج فی الحال انسولین ہے کیوں کہ اس قسم میں ہمارا لبلبہ انسولین نہیں بنا سکتا۔پہلی قسم تقریبا 35 سال تک ہو سکتی ہے (عموما ڈاکٹرز 40 سال سے پہلے تک ہونے والی ذیابیطس کو ٹائپ 1 کہتے ہیں)

2) ٹائپ ٹو ذیابیطس 40 سال سے ذیادہ عمر کے افراد میں ہوسکتی ہے جس کے لئے ڈاکٹرز دوائیاں بھی تجویزکر سکتے ہیں اور انسولین بھی اس کا انحصار مرض کی نوعیت پر ہے۔ان مریضوں کا لبلبہ انسولین تو بناتا ہے مگر کم بناتا ہے یا انسولین ریزسٹنس کی وجہ سے غیر موثر ہوجاتا ہے۔
وزن کی زیادتی ، خوراک میں بے احتیاطی، ورزش نہ کرنے کی عادت اور سگریٹ نوشی اس کی وجوہات ہیں۔

3) ذیابیطس کی ایک اور قسم صرف عورتوں کو حمل کے دوران ہوتی ہے اسے گیسٹیشنل ذیابیطس یا دوران حمل کی ذیابیطس کہتے ہیں۔اور ان کو بھی ڈاکٹرز انسولین کا ہی مشورہ دیتے ہیں اور غذائی احتیاط کے ساتھ مناسب ورزش بتاتے ہیں تاکہ بچہ بغیر نقصان کے پیدا ہو اس قسم میں ڈلیوری کے بعد شوگر تقریبا 90% ختم ہوجاتی ہے البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں شوگر ہوجائے۔ مگر بچہ بغیر ذیابیطس کے ہی پیدا ہوگا یعنی بچے کو کوئی نقصان نہیں ہوگا
اب اگر خوراک کی بات کریں تو دانا کہتے ہیں احتیاط علاج سے بہتر ہے۔۔۔
ذیابیطس کے مریض ساری سبزیاں استعمال کرسکتے ہیں خاص طور پر ہرے پتوں والی سبزیاں تو خوب کھائیں یہ سبزیاں لو کارب ہیں ان سے شوگر نہیں بڑہتی ہے۔ بس آلو اور پالک بہت کم استعمال کریں اور شوگر اگر 300 سے زیادہ ہو تو آلو اور پالک کا استعمال ترک کردیں۔
ذیابیطس کے مریض روزانہ انڈے کو ابال کر اس کی سفیدی کھا سکتے ہیں۔جب کے چکن اور گوشت بھی مناسب مقدار میں لے سکتے ہیں۔ یہ پروٹین ہے اور اس سے آپ کی شوگر نہیں بڑہتی ہے۔
دالیں،چنے اور چھولے بھی ذیابیطس کے مریض استعمال کر سکتے ہیں
ہفتے میں ایک دن مچھلی بھی کھا سکتے ہیں اور ہر ہفتے یا دو ہفتے میں حسب ضرورت چاول بھی ۔لیکن چاول کم مقدار میں لیں۔چاول ہائی کارب ہیں جن سے شوگر میں اضافہ ہوتا ہے۔
اگر بات پھلوں کی کریں تو پھلوں میں آم،گنا،کھجور نہ لیں۔ باقی کوئی بھی پھل حسب ضرورت لے لیا کریں (یہاں حسب ضرورت سے مراد کم مقدار ہے۔عموما ایک چھوٹے کپ کی مقدار میں پھلوں کے ٹکڑے لے سکتے ہیں ۔پھلوں کو جوس کے بجائے کچی حالت میں کھانا ضروری ہے تا کہ ان کا فائبر آپ کو ملے)
جو چیز سختی سے منع ہے وہ ہیں
چینی،شکر،گڑ، کسی قسم کا بازاری جوس
کولڈ ڈرنکس، میٹھا دودھ، میٹھی چائے، مٹھائی، چاکلیٹ، کیک، بیکری کی بنی اشئیا وغیرہ
اہم بات یہ ہے کہ ذیابیطس کے مریض میٹھا کھانا تو چھوڑ دیتے ہیں مگر ان کو شکایت ہوتی ہے کہ ان کی شوگر کم نہیں ہو رہی جب کہ وہ دوائی بھی وقت پر لیتے ہیں تو اسکی وجہ ہے “گندم کی روٹی”
گندم میں کاربوہائیڈریٹس وافر مقدار میں ہوتے ہیں جو ذیابیطس کے مریض کے لئے مناسب نہیں اس لئے زیادہ گندم کی روٹی کھانے سے شوگر زیادہ ہوجاتی ہے
اگر گندم کو کم کر کے “جو” کی روٹی اور بیسن کی روٹی لیں تو ہم اپنی شوگر کو قابو میں رکھ سکتے ہیں
سگریٹ نوشی ترک کردیں
کم سے کم تیس منٹ واک کریں ۔اگر ایک وقت میں ممکن نہ ہو تو دس دس منٹ کے تین سیٹ کرلیں یوں آپ کی واک بھی ہوجائے گی اور آپ کو زیادہ تھکاوٹ بھی نہیں ہوگی۔ہر وقت متحرک رہنے کی عادت ڈالیں۔
نماز باقاعدگی سے ادا کریں یہ بھی ایک روحانی اور جسمانی ورزش ہے۔
اور ذیابیطس کو اپنی کمزوری نہیں طاقت بنائیں آپ بہت مضبوط ہیں یہ بیماریاں آپ کو نہیں ہرا سکتیں آپ انہیں ہرا سکتے ہیں انہیں اپنی خوراک اور ورزش سے
ہمارا خواب صحت مند پاکستان
جزاک اللہ

(Visited 17 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *