تنہائی ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

افسانہ

ہماری زندگی میں دو طرح کے لوگ ہوتے ھیں :۔

ایک وہ جن کے ساتھ وقتی ناراضگی اور غصے کے بعد سب ٹھیک ہو جاتا ھے، گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو،۔
جن سے ہمیں معافی مانگنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی ہمیں بار بار ہماری غلطیوں کا احساس دلایا جاتا ھے۔ایسے لوگ ہمیں کبھی اکیلا پَن محسوس تک نہیں ہونے دیتے۔

اور دوسرے وہ لوگ ہوتے ھیں:۔

جن کا تعلق ہماری زندگی کی تلخ یادوں سے جُڑا ہوتا ھے ،جنہیں ہم جھٹلا ضرور سکتے ھیں مگر بھلا کبھی نہیں پاتے۔ جن کی یادیں ہم سے ہمارے پچپن کی شرارتیں، جوانی کی مسکراہٹیں تک چھین لیتیں ھیں۔
ایسے لوگ ہماری زندگی میں کسی بوسیدہ کتاب کے اُن اوراق کی طرح ہوتے ھیں جنہیں ہم ماضی میں پڑھ چکے ہوتے ھیں، اور دوبارہ اُن اوراق کو پلٹنے کی ہم میں بساط شاید باقی نہیں رہتی۔۔۔۔
ایسے لوگ نہ ہی کبھی کسی سے راضی ہو سکتے ھیں اور نہ ہی ٹھیک سے خفا ہونے کا ڈھنگ جانتے ھیں۔
ایسے لوگوں کا کردار ہماری زندگی میں بالکل کسی زنگ آلود تالے کی طرح ہوتا ھے جسکی چابی یا تو ہم سے چھین کر دور کسی تالاب میں پھینک دی جاتی ھے یا پھر کھو جاتی ھے، اور وہ تالا ہم چاہ کر بھی کبھی کھول نہیں پاتے۔۔۔۔!!!!۔
سحر بھی کچھ اسی قسم کی کیفیت کا شکار تھی، اُس نے بہت ہی چھوٹی عمر میں اپنے ماں.. بابا کو الگ ہوتے دیکھا تھا،۔۔
انکے آپس کے روز کے لڑائی جھگڑے سے وہ زہنی مریضا بن چکی تھی. . .
جہاں وہ بچی اتنی ہنس مُکھ تھی کہ سب کے چہرے پر اس کی چلبلی، شرارتی حرکتوں اور باتوں سے مُسکان بکھر جاتی تھی، وہی بچی اب خود ہنسنا بھول چکی تھی۔
کوئی اس سے کوئی بات کرتا تو ھاں یا ناں میں بس سر ہلا دیتی۔
وہ سب کا سر کھانے والی اب بالکل ہی چپ چپ سی رہنے لگی تھی جس کا زمہ دار اور کوئی نہیں،اس کے اپنے ہی ماں باپ تھے ۔
وہ دونوں کو آپس میں زرا زرا سی بات پر بحث کرتے دیکھ کر خموشی سے ان دونوں کے منہ منہ تکتی رہتی، پر مجال ھے کہ اُس بچی کو اِس حالت میں دیکھ کر بھی وہ دونوں کچھ لمحوں کیلئے خاموش ہوتے۔
پھر آہستہ آہستہ سحر کے ماں باپ تو کسی حد تک آپس میں کمپرومائز کرنے ہی لگے تھے مگر، معصوم سحر اب بھی خود کو اس شور شرابے کی دنیا سے باہر نہیں نکال پائی تھی ۔چھ مہینے تک وہ اپنے کمرے سے باہر تک نہ نکلی جسے بھی اُسے ملنا ہوتا خود اس کے کمرے میں جاتا ، وہ اپنے بیڈ پر بیٹھی بس خموشی سے زمین کی اوڑھ تکتی رہتی، چونکہ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں سو، فیملی کا بیرون ملک (پیرس) سیروتفریح کیلئے جانے کا پلان بنا سحر سے بھی کہا گیا مگر اس نے جانے سے صاف انکار کر دیا ۔
یوں سحر کو اکیلا گھر چھوڑ کر جانا تو مشکل تھا اس لئے اس کی ایک قریبی سہیلی “اِرم” جس کا گھر یہیں پاس میں تھا ،سحر کو کچھ دن کیلئے ان کے پاس چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اِرم کی فیملی سحر کیلئے ایک آئیڈیل فیملی تھی… کیونکہ “”۔۔۔
اس کے ماں بابا کے درمیان کبھی جھگڑا نہیں ہوتا تھا اور وہ دونوں ارم سے بہت پیار کرتے تھے، اِرم اپنے تین بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی سحر بھی 15 دن کیلئے اپنے کپڑوں کا بیگ اور دیکگر ضرورت کی چیزوں کے ہمراہ ارم کے گھر منتقل ہو گئی ۔
اُسے وہاں اتنا پیار ملا کہ وہ کچھ ہی دنوں میں ان کے ساتھ گھل مل گئی، اگر دوسرے یا تیسرے دن سحر کو اسکے ماں’ بابا کی کال آتی بھی تو وہ یا تو کال کاٹ دیتی یا پھر ان کے خیریے معلوم کرنے کے جواب میں ھاں… ھوں ۔۔۔۔ کے بعد خدا حافظ کر کے فون رکھ دیتی۔۔۔۔
ایسے ہی ہنسی خوشی 15 دن کیسے گزر گئے سحر کو پتا بھی نہ چلا اور اس کے ساتھ ساتھ ارم اور اسکی فیملی بھی سحر کے ساتھ کافی گھل مل گئی تھی اسکا بالکل بھی یہاں سے جانے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔
شام 5 بجے کی فلائٹ سے اسکے ماں’ بابا واپس پاکستان آ رہے تھے مگر، سحر خوش ہونے کی بجائے بجھی بجھی سی تھی،۔۔۔ سامان پیک کرتے ہوئے بھی وہ اپنے اور ارم کے کمرے کی ہر ایک چیز کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
اتنے میں ارم کی ماما سیڑھیوں سے اوپڑ روتے روتے آتیں ھیں اور زور سے گلے لگا لیتی ھیں اُسے لگتا ھے کہ شاید وہ اس کے جانے کی وجہ سے دکھی ھیں مگر سحر کو پتا چلتا ھے کہ انکا پلین کریش ہو گیا اور اب وہ دونوں اس دنیا میں نہیں رہے،۔
یوں سحر کی نہ جانے والی خواہش تو پوری ہو گئی تھی مگر، اس نے ایسا تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ،اتنی سی عمر میں تنہائی کیساتھ ساتھ اسے یتیم ہونے کا بھی دُکھ جھیلنا پڑے گا۔۔۔
اِرم کی فیملی نے اُسے بالکل ارم کیطرح ہی پیار دیا جسکی وہ حقدار بھی تھی،،مگر پھر بھی وہ اُس حادثے کو آجتک نہیں بھول پائی تھی جو مصیبتوں کا پہاڑ بچپن میں ہی اس پر ٹوٹ پڑا تھا۔۔۔!!۔

(Visited 17 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *