حرامزادہ ۔۔۔ تحریر : محمد نواز ۔۔۔۔۔ کمالیہ

جی ٹی روڑ پر واقع ہوٹل اب ڈرائیور ہوٹل کے نام سے مشہور ہو گیا تھا ۔لاہور کو جانے اور آنے والی موٹر گاڑیاں ،بسیں اور زیادہ تر ٹرک یہاں آ کر رکتے ،آرام کرتے ،کھانا کھاتے اور اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جاتے ، ایک قطار میں بنے سات آٹھ کمرے ،اور کمروں کے سامنے برآمدہ جس پر ملکی کی مشہور مشروب ایجنسی کی تشہیر کی گئی تھی ۔کمروں کے سامنے موٹے بان سے بنی چارپائیاں بچھیں تھیں اور ساتھ ہی لکڑی کے بنے بنچ جو عام طور پر کھانا کھانے کیلئے ا ستعمال ہوتے تھے ۔ بنچوں پر ہر وقت پانی کے جگ بھرے رہتے ،چارپائیوں اوربنچوں کی خستہ حالی ان کے رنگ سے ہی عیاں ہو رہی تھی ،ایسے لگتا تھا جب سے بنوائے گئے ہیں تب سے کسی نے انہیں دھویاہی نہیں ،جب کبھی بارش برستی یہ خود ہی دھل جاتے اور پھر موسم کی بے رحمی نے بھی انہیں بد حال کر دیا تھا ۔دھوپ یا سردی میں ڈرائیوروں کے بیٹھنے کیلئے برآمدے میں بھی انتظام تھا ،وگرنہ زیادہ تر باہر کھلے آسمان میں ہی کام چلتا اورڈرائیور بھی کھلی فضا میں بیٹھنا پسند کرتے۔ مسلسل دن رات ڈرائیو کرتے کرتے تھک جاتے توچارپائیوں پر دراز ہو جاتے اکثر ڈرائیور کہا کرتے تھے کہ ان کو گھر سا ماحول ملتا ہے اس لیئے ساری تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے ۔
ہوٹل کا زیادہ کام رات کو ہوتا تھا جس کی تیاری سر شام ہی شروع کر دی جاتی تھی ،پانی کا سارے دلان میں چھڑکاﺅ کیا جاتا، چارپائیوںاور بنچوں پر جھاڑ پونچ کی جاتی تاکہ ان پر جمی گرد صاف کی جا سکے ،صاف پانی کے جگ بھر کر رکھے جاتے ۔کمروں کے بغل میں کھانا پکانے کیلئے باورچی خانہ بنایا گیا تھا جہاں سے ہر وقت لکڑیوں کا دھواں اٹھتا رہتا تھا ،لکڑیوں کے سیاہ و سفید دھویں نے ہوٹل کی عمارت کا رنگ تبدیل کر دیا تھا اورتبدیلی کے آثار جا بجا دیکھے جا سکتے تھے ۔ گرمیوں کا جھلسا دینے والا سورج جو دوپہر کو گویا سوا نیزے پر چمک رہا تھا اب دور مغرب کی طرف چلا گیا تھا ،مگر اپنے پیچھے داستان چھوڑ گیا تھا ،وہاں موجود ہر فر د بلبلا اٹھا تھا ” اج تے گرمی نے ساڑ دتا ۔۔۔۔۔۔“ گرم لو کے تھپیڑے منہ پر ایسے آ لگے جیسے بچپن میں ماسٹر ناک پکڑ کرزور سے گال پر تھپڑ دے مارتا تھا اور گال رات تک لال ہی رہتا۔ایک ادھیڑ عمرآدمی زمین کی تپش کم کرنے کیلئے پلاسٹک کے پائپ سے پانی چھڑکا رہا تھا اور دوسرا بنچوں کو پوچی سے صاف کر نے میں مگن تھا ۔ سامنے دو تین ٹرک کھڑے تھے اور ڈرائیور برآمدے میں سستا رہے تھے ۔
سورج اپنی آخری چمک دکھلا رہا تھا اور لالگی ایسے اتر آئی تھی جیسے کسی سے لڑ جھگڑ کر آیا ہو اور اب اپنے غصے کے اظہار کیلئے آنکھوں سے خون ٹپکا رہا ہو ۔ پکوان پک رہے تھے ،جن سے اٹھنے والی باس نے پورے ہوٹل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔ تندور پر بیٹھا نان بائی آٹے کے پیڑے کو دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں کچھ اس طرح دباتا کہ پٹخ کی آواز کے ساتھ پیڑا پھیل کر گول روٹی کی صورت اختیار کر جاتا ۔ دہکتے تندور کی تہہ میں یوں روٹی لگا آتا جیسے دریا کی سطح پر اڑنے والا سارس غوطہ لگا کر پانی کے اندر سے مچھلی پکڑ لائے ۔ تندور میں دہکتے انگارے گویا گلزار تھے،مگر اس سے اس بابت پوچھا جاتا تو مضائقہ خیز انداز میں جواب دیتا ” پیٹ کی آگ اس آگ سے کہیں زیادہ خطر ناک ہے “ ٹکا ٹک کی آواز ساتھ ہی رکھے بڑے توے سے ایک طرح کی موسیقی پیدا کر رہی تھی ،جس پر باربی کیو بھوک بڑھانے کا مزید سامان پیدا کر رہاتھا ۔ سورج کے دوبنے کے ساتھ ہی رنگ برنگے قمقموں نے ہوٹل کے ماحول کو کہکشاں میں بدل دیا تھا ۔تارے ہوٹل کے گردا گرد دوڑ رہے تھے ،
ڈرائیور اور موسیقی لازم و ملزوم ہیں ،ہر ڈرائیور نے اپنی گاڑی ،بس یا ٹرک میں موسیقی کا بندو بست کیا ہوتا ہے ،ڈرائیورز کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ علاقائی موسیقی ،ڈرائیوروں کے علاقے اور ذوق کی نشاندہی کرتی ہے ۔سندھ کی دھرتی پہ شاہ عبدالطیف بھٹائی اور سچل سرمت جیسے صوفی بزرگوں نے اپنا کلام چھوڑا تو لوگوں کی روح میں رچ بس گیا اور آج بھی عابدہ پروین ،مائی بھاگی جیسی خوبصورت آوازوں نے جیسے امر کر دیا ہے ۔ صحرائے بلبل ریشماں کے گلے کا جادو اب بھی ریاست میں سر چڑھ کر بول رہا ہے ،پنجاب کے میدان عالم لوہار کے چمٹے کی آواز سے گرمائے جاتے ہیں اور عنایت حسین بھٹی کی منفرد آواز رات بھر جگانے کیلئے کافی ہے ،عطاللہ عیسیٰ خیلوی کے گیت ڈرائیورکیلئے جیسے رات بھر جاگنے کا تعویذ بن گئے ہیں ،نیازی برادران نے پوٹھو ہار کی سر زمین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور رحیم شاہ جیسا گلو کار” ماں مجھ کو جھلاﺅ نا جھولا رے “سلانے کی بجائے جگانے کا کا کام کرتا ہے ۔ہوٹل پر بھی موسیقی کا اہتمام تھا مگر علاقائی حد کراس کرکے ملکی سرحد عبور کر گیا تھا،پڑوسی ملک کے ہجان انگیز گیت سامنے رکھی بڑی سکرین پر دعوت نظارہ دے رہے تھے ۔بو س و کنار کرتا جوڑا ،وہاں بیٹھے سب ڈرائیوروں کا مرکز نگاہ تھا ۔ ڈرائیوروںکو دو چیزیں بہت پسند ہوتی ہیں ایک اچھا کھانا اور دوسرا مخالف جنس کی طرف کشش۔جب وہ اچھا کھانا کھا لیتے ہےں توجسم کی تسکین کیلئے جنس مخالف کی یاد انہیں گھر کی طرف کھینچ لاتی ہے ۔گھر سے سینکڑوں میل دور بیٹھے تسکین کیلئے ،تمباکو بیڑا کا سہارہ ڈھونٹتے ہیں وگرنہ خود ہی تسکین کا سامان پیدا کر لیتے ہیں ۔ بوس و کنار کرتا جوڑا گویا بدن میں آگ لگا رہا تھا ۔
ٹیں ۔۔۔۔۔ ٹیں کرتی گاڑیاں اور ٹر ک آ کر رکنے لگے اور ڈرائیور اتر کر چارپائیوں پر لگے سرہانوں پر ٹیک لگا نے لگے ،گردن کو یوں گھماتے جیسے بہت تھک گئی ہو،کئی ایک تو انگڑائی لے کر تھکاوٹ کا اظہار کرتے دیکھائی دینے لگے ۔ایک ٹرک اپنے مخصوص ہارن بجاتا ہواا ٓ کر رکا ،ڈرائیور اور اس کا شاگرد پشاوری چپل کندھے پر رکھے رومال سے جھاڑتے ہوئے چار پائی پر آ بیٹھے ،پانی کا گلاس حلق میں انڈیلا اور سگریٹ سلگا لی ،یکے بعد دیگرے سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے دھواں ہوا میں تحلیل کرنے لگے ” استاد لگتا بہت تک گئے ہو ۔۔۔۔۔۔“ شاگرد ڈرائیو ر کے گویا پاﺅں دبانے لگا ،تھکے ماندے پاﺅں میں ہاتھ کے چھونے سے جیسے راحت ملی تو ڈرائیور نے پاﺅں پھیلا دئیے اور شاگر آہستہ آہستہ دبانے لگا ” کیا کھائیں گے استادجی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟“ ایک بہرے نے کندھے پر سے صافی اتاری اور ہاتھ صاف کرتے بولا ” کیا پکا ہے جگر ۔۔۔۔۔“ استاد بے تکلف ہوگیا ” آپ کی پسند کا سب کچھ ہے استاد جی “ بہرہ منتظر نظروں سے دیکھنے لگا ” چل بھولے ۔۔۔۔۔ جو کھانا ہے منگوا لے ۔۔۔۔۔ آج تیرا استاد بھی تیری پسند کا کھانا کھائے گا ۔ شاگرد نے بہرے کو استاد کی پسند بتائی اور ساتھ کہہ بھی دیا کہ استاد جی آج بہت تھکے ہوئے ہیں ۔ ” جوتا پالش ۔۔۔۔۔“ ایک دس بارہ سال کا لڑکا جو لب و لہجے سے پٹھان معلوم ہو رہا تھا ۔چارپائیوں پر بیٹھے ہر ڈرائیور کے پاس جاتا اور جوتا پالش کی آواز لگاتا ،اکثر ڈرائیور جن کے جوتے گرد سے اٹے ہوتے تھے اس سے پالش کروا لیتے تھے یوں ٹھیک ٹھاک دیہاڑی لگ جاتی تھی ۔ استاد نے جوتے پالش پر آمادگی ظاہر کی تووہ اس نے ہاتھ میں پکڑاپرانا جوتا استا د کے پہننے کو رکھ دیا اور جوتا اٹھا کر تھوڑی دور جا کر پالش کرنے لگا ۔بہرہ کھانا لے آیا ۔استا د شاگرد نے مل کر کھانا کھایا اور لڑکا جوتا پالش کرتا رہا ۔
ہوٹل کے عقب میں چھوٹی سی افغان بستی تھی ،جہاں افغانستان سے آئے پٹھان رہتے تھے ۔ مٹی گارے اور سرکنڈوں سے بنی بستی کے بیشتر مکین مٹی اور گارے کی دیواریں بنانے کا کام کرتے تھے اور بچے چھوٹی موٹی مزدوری ،ابلے چنے بیچنے کے علاوہ کچھ بچے جوتے پالش کا کام بھی کرنے لگے تھے کہ اس سے اچھی خاصی آمدن ہونے لگی تھی ۔ تین چار بچے مل کر ہوٹل پر آ جاتے جہاں انہیں جوتے پالش کرنے کے علاوہ پھل فروٹ بھی کھانے کو مل جاتا اور کبھی کبھار کھانا بھی ۔” بھولے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ ” جی استاد ۔۔۔۔۔۔۔“ بھولے نے نوالہ منہ میں ڈالا اور خوب چبانے لگا ۔” کتنے دن ہو گئے ہیں تیری استانی کے پاس گئے ہوئے ۔۔۔۔۔۔ آج تیری استانی کی بہت یاد آ رہی ہے پتا نہیں اس کا گزارہ کیسے ہوتا ہو گا ؟ “ ” استاد پیسے تو آپ دے آئے تھے گزارہ اچھا ہی ہوتا ہو گا “ بھولے نے یاددہانی کراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھولے کہتے ہیں ،عورت نشے کی طرح ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا بدن عورت مانگ رہا ہے “ لڑکا جوتا پالش کر کے لا چکا تو استاد کی نظر اس گورے چٹے لڑکے پر پڑی جو پیسے لینے کو سامنے کھڑا تھا ۔ استاد نے سو کا نوٹ اس کی ہتھیلی پر رکھا اور ہاتھ بسورنے لگا ،دوسرا ہاتھ لڑکے کے گالوں کو چھو کر کولہے تک آ گیا ،لڑکے کو کچھ عجیب نہ لگا ،ایسا اس کے ساتھ کئی بار ہو چکا تھا ۔ کئی ڈرائیور کھانا کھلاتے ہوئے اسے اپنے پہلو میں بیٹھا لیتے تھے اور ہاتھ سے سارا جسم ایسے ٹٹولتے تھے جیسے بکرے یا دمبے کو خریدنے سے پہلے قصائی خوب دیکھ بال کر خریدتا ہے ۔ شروع میں اسے بہت برا لگتا تھا مگر اسے اس کی عادت ہو گئی تھی

،بعض ڈرائیور پالش کے کم اور پاس بیٹھانے کے زیادہ پیسے دے جاتے تھے اور کھانا الگ سے ۔
” بھولے ۔۔۔۔۔۔۔۔اسے کھانا کھلا کر ٹرک میں لے آنا ،جتنے پیسے مانگے دے دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بدن بہت دکھ رہا ہے “ بھولے نے لڑکے کو کھانا کھلایا اور ٹرک میں لے آیا ،ٹرک کے اندر اندھیرا تھا اور لوک گلوگار علاقائی موسیقی پر راگ آلاپ رہا تھا ” استاد پانچ سو لے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ بھولے نے دروازہ کھولا اور لڑکا چھلانگ لگا کر ٹرک کے اندر چلا گیا ۔ کوئی آدھ گھنٹے کے بعد ٹرک کا دوازہ کھلا تو استاد کی قمیض پر خون کے چند دھبے نظر آ رہے تھے ” بھولے میں
۔نہا نے جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔اسے پانچ سو روپے دے دینا ،حرام زادہ ،رنڈی کی اولاد “۔

(Visited 30 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *