افسانے

شادی ہمارے بھائی کی ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

اس برس کے ابتدامیں ہی ہمیں گھر والوں نے بتا دیا تھا کہ چھوٹے بھائی کی شادی کرنی ہے۔ طے یہ پایا کہ ہماری تعطیلات کے دوران ہی اس فرض سے سبکدوش ہونا ہے۔ ہم نے بزرگوں کو بہت سمجھایا

مجھ سے وفا کے جذبوں کو مارا نہیں گیا ۔۔۔ تحریر شاعرہ : ہاجرہ نور زریاب

مجھ سے وفا کے جذبوں کو مارا نہیں گیا آنکھوں سے میری عکس تمہارا نہیں گیا دھندلا گیا جو نقش نکھارا نہیں گیا آنکھوں میں حسرتوں کو ابھارا نہیں گیا نظروں سے تیری گر کے گوارا نہ تھی حیات اس

روحانی ڈاکٹر راجہ یحییٰ خالد

  جادو، جنات، سحر، آسیب، نظر بد اور تمام قسم کی بندش کا علاج قرآن و سنت سے تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ اوقات ملاقات : شام 5 بجے سے رات 9 بجے تک گھر سے آنے سے پہلے فون

ڈائری سے مکالمہ : کپاس کا سیزن ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

ڈئیر ڈائری آج میں تمہیں زندگی کی ایک اٹل حقیقت بتانے لگی ہوں اور حقیقت یہ ہے کہ ہم جس چیز کے پیچھے بھاگتے ہیں وہ ہے پیسہ ۔ہر انسان سونے چاندی کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوتا اور

عائشہ کے نام ۔۔۔ تحریر : علینہ ارشد

میں اس وقت سال اوّل میں تھی اور سن 2011 تھا جب میری اس سے ملاقات ہوئی۔ ملاقاتیں تو اس سے پہلے بھی بہت ہو چکی تھیں مگر ہوش سنبھالنے کے بعد یہ میری اس سے پہلی ملاقات تھی. میرے

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 4 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

حُوری کے پاپا کا import Export کا بزنس تھا۔۔۔ ان کا اسلام آباد میں فلیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ہر ایک کی اپنی زاتی گاڑی بھی تھی حُوری خود ڈرائیو کر کے یونیورسٹی آتی جاتی۔۔۔ ڈرائیور کے ہوتے سوتے اُسے

سنو۔۔۔۔۔۔! “جاناں” تمھاری مُحبت بھی محض ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

سُنو “جاناں”۔۔۔!۔ تمھاری مُحبت بھی محض اک ڈرامہ ہی تھی۔۔۔۔۔۔ بس تم اِس ڈرامے میں اپنا کردار اچھے سے نہیں نبھا پائے۔۔۔۔۔۔ جو بھی چند اک “مجبوریاں” گنوائی تھیں ناں’ تم نے۔۔۔ وہ سب بھی ڈھونگ تھیں۔۔۔!۔ کاش !!!!۔۔۔ زرا

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 3 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

آخر کار کافی سوچ بچار کے بعد اُس نے دو سموسے /چٹنی پلیٹ اور ساتھ میں ایک کپ چائے آرڈر کی۔۔۔ وہ چائے اور سموسے لیکر جلدی سے کینٹین کے پچھلی طرف باغیچے میں پڑے ٹیبل پر بیٹھی اور جلدی

عورت ۔ کہانی ۔۔۔ تحریر : تابندہ جبیں

میں کیا ہوں مجھ سے زیادہ اس بات سے لوگ روشناس کرارتے ہے مجھے۔۔۔کبھی کبھی مجھے وہ دن یاد آتے ہے جو یادیں ناضی بن گئے ہیں ۔۔۔بچھڑے ہوئے دن اس وقت اور زیادہ تکلیف دہ ہوجاتے ہے جب آپ

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 2 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

حُوری جو کہ کافی (Confident)  لڑکی تھی، اُن سب کو خود پر ہنستا دیکھ رونے والی شکل بنا لیتی ہے۔ وہ لڑکا جس کے پاس اُسے بھیجا گیا تھا( مسٹر ہینڈسم) وہ کوئی سٹوڈنٹ نہیں بلکہ اُنکا نیا سائیکالوجی ٹیچر

میرے گھر کے صحن میں گرنے والی بارش کی ہر اک بوند ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

“نظم” میرے گھر کے صحن میں گرنے والی بارش کی ہر اک بُوند کی دلکشی، مٹی میں مل کر اور بھی نکھرتی جا رہی ہے۔۔۔!۔  اور یہ خُوشبو۔۔۔۔۔۔۔ دُنیا کی سبھی خُوشبوؤں کو پیچھے چھوڑ رہی ھے مٹی کی یہ

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 1 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

  صُبح یونیورسٹی کا پہلا دن تھا، اور حُوری ابھی تک ڈریس کی سلیکشن میں کنفیوز تھی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ پہلا تاثر بہت معنی خیز ہوتا ھے۔۔۔ اپنی ماما کے کمرے میں 5-6 ہینگروں سمیت کپڑوں کے جوڑے

بس ایک چیخ ۔ افسانہ ۔۔۔ تحریر : تابندہ جبیں

انسان کیا سوچ رہا ہے اس بات کو اس کے سوا بس خالق خدا ہی جان سکتا ہے۔یا پھر کوئی ایسا شخص جو اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔وہ اس کے ایک اشارے سے اندازہ لگا لیتا کے گویا

بے دردی ۔ کہانی ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

مناہل نوکری ملنے کی خوشی میں آفس سے انٹرویو کے بعد نکلتے ہی خوشی کے اظہار کے طور پر دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر کودنے لگی، اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اُسے یہ نوکری مل کیسے گئی

تنہائی ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

افسانہ ہماری زندگی میں دو طرح کے لوگ ہوتے ھیں :۔ ایک وہ جن کے ساتھ وقتی ناراضگی اور غصے کے بعد سب ٹھیک ہو جاتا ھے، گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو،۔ جن سے ہمیں معافی مانگنے کی بھی

ہنسنا منع ہے ۔۔۔۔۔ صرف مسکرائیے ۔۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

آئین کی رو سے اس دنیا میں انواع و اقسام کے مرد و خواتین پائے جاتے ہیں آئیے ان میں سے چند کا یہاں تذکرہ کرتے ہیں ۔ بنیادی طور پر مرد تین طرح کے ہوتے ہیں اور یہی تین

ڈرامہ ۔ وہ میرا دل تھا ۔۔۔ تبصرہ : اسماء طارق ۔ گجرات

ڈرامہ وہ میرا دل تھا ایک لو سٹوری ہے بےشک اس میں باقی کہانیوں کے طرح سسپنس اور تھرل نہیں ہے مگر اس کہانی میں ایک اہم معاشرتی پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ کیسے بچے غلط

حرامزادہ ۔۔۔ تحریر : محمد نواز ۔۔۔۔۔ کمالیہ

جی ٹی روڑ پر واقع ہوٹل اب ڈرائیور ہوٹل کے نام سے مشہور ہو گیا تھا ۔لاہور کو جانے اور آنے والی موٹر گاڑیاں ،بسیں اور زیادہ تر ٹرک یہاں آ کر رکتے ،آرام کرتے ،کھانا کھاتے اور اپنی اپنی

کتابیں پڑھنے کے شوقین ۔۔۔ تحریر : فرح ناز

ہم لوگ جو کتابیں پڑھنے کے شوقین ہوتے ہیں نہ ہم ایک ساتھ بہت سی زندگیاں جیتے ہیں، ہم داستانیں سننے اور پڑھنے والے کبھی عمرجہانگیر کے مرنے پر روتے ہیں، تو کبھی امرحہ کے ساتھ مانچسٹر کی سڑکوں پر

عزت کی چھوٹی چادر ۔۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

ماں یہ عزت کی چادر چھوٹی کیوں ہوتی ہے مریم نے ماں سے پوچھا ،ماں نے بیزار ہو کر کہا کہ مجھے نہیں پتا بڑوں سے ایسے ہی سنا ہے ۔ جب سے اس نے ماسی رحمت کو یہ کہتے