کالم / بلاگ

سٹیزن پورٹل:ترقی ئ معکوس؟ تحریر:عقیل خان

تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے پہلے جو انقلابی نعرے لگائے تھے ان میں ایک نعرہ یہ بھی تھا کہ عام آدمی کی پہنچ وزیراعظم ہاؤس سے خود وزیراعظم تک ہوگی۔ اسی انقلابی نعرے کو پایہ تکمیل پہنچانے کے

گھبرانا نہیں۔۔۔تحریر: امتیاز علی شاکر

اچھوماتھے میں گولی لگنے سے جان بحق ہوگیا،تعزیت کیلئے آنے والوں میں سے ایک نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ افسوس ناک لہجے میں میں اچھوکی میت کوغورسے دیکھتے ہوئے تعزیتی الفاظ میں کہاشکرہے آنکھ توبچ گئی ورنہ گولی آنکھ میں

گاؤں بھی اب گاؤں نہ رہا۔۔۔۔۔تحریر :عمر خان جوزوی

برسوں بعدگاؤں جاناہوا۔گاؤں کی ہرچیزبدلی بدلی دکھائی دی۔گاؤں پہنچ کرگاؤں ہمیں اورہم گاؤں کودیکھتے رہ گئے۔ایک لمحے کے لئے یوں لگاکہ یہ وہ ہمارانہیں کہیں نئے پاکستان کاکوئی نیاگاؤں ہے لیکن اللہ بھلاکرے ماماعبدالباری کاکہ جن کی آذان کی آوازسن

پیامبر:گھاس پھونس کی بادشاہی۔۔۔تحریر:قادر خان یوسفزئی

  حکومت اس وقت کسی سیاسی بحران میں مبتلا ہے یا نہیں، اس کے بجائے عوام کو اس سوال کا جواب نہیں مل پا رہا کہ ان کے مسائل کب حل ہوں گے۔ پاکستان جیسے حالت جنگ کا منظر پیش

ریاست مدینہ میں آٹا بھی عوام سے دور ۔۔۔تحریر :بشری نسیم

  ریاست مدینہ کے بعد پاکستان وہ پہلی ریاست ہے جو اسلامی نظریے کی بنیا د پر معرض وجود میں آئی۔قیام پاکستان کی تحریک کے دوران جب قائد اعظم سے پاکستان کی قانون سازی کے حوالے سے پوچھا گیا تو

تحریک انصاف کی تنظیم سازی ذاتی مفادات کی نذر۔۔۔تحریر :فہیم چنگوانی ڈیرہ غازی خان

  تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان حکومتی معاملات میں انتہائی مصروف ہیں انہوں نے چند عہدوں کے حوالے سے خود فیصلہ کیا تھا لیکن باقی تنظیم سازی کی ذمہ داری چیف آرگنائزر سیف نیازی کے سپرد کی تھی۔ پنجاب

آواز جرس: جمہور کی آواز۔۔۔تحریر :ایم سرورصدیقی

  عام مسلمان کے دل زخمی ہیں وہ بے بس بھی ہیں اور لاچاربھی وہ دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں ہیں ہونٹوں پر فریادمچل مچل جاتی ہے کیونکہ ایک صدی مسلم حکمرانوں کا کردار انتہائی بھیانک ہے جو

کراچی سے نئی سیاسی لہر کی بیداری۔۔۔تحریر :قادرخان یوسف زئی

  حکمران اتحادی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہوئے معاہدوں پر عمل در آمد نہ ہونے پر عملی احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ جس میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے عملی طور پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی

قلم درازیاں:مفید مشورے ۔۔۔تحریر :پروفیسررفعت مظہر

ہمیں یقین ہو چلا کہ یہ حکومت اپنی ”مدت ملازمت“ پوری کرے گی۔ جب ”اصلی تے وَڈے“ حاکموں کی سرپرستی پہلے سے بھی زیادہ ہو اور اپوزیشن کے غبارے سے ”پھوک“ نکلنے کے بعد وہ مرے ہوئے چوہوں کی مانند

ایسی ترقی کو سرخ سلام۔۔۔تحریر:عمر خان جوزوی

دنیاچاندپرپہنچ گئی اورہم۔۔؟ہم جہازسے کاراورکارسے سائیکل پرآگئے۔لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے بڑی ترقی کرلی ہے۔فحاشی،بے حیائی،جھوٹ،منافقت،پسماندگی اوردین سے دوری کانام اگرترقی ہے توشائدنہیں بلکہ یقینناًہم نے پھربہت ترقی کرلی ہے کیونکہ جدیدٹیکنالوجی،موبائل وانٹرنیٹ کی برکت سے فحاشی،بے حیائی،جھوٹ،فریب،دھوکہ اوردین

جماعت اسلامی پاکستان میں کیا چاہتی ہے؟۔۔۔تحریر:میر افسر امان

جماعت اسلامی پاکستان میں اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام چاہتی ہے۔جماعت اسلامی کے امیر سید ابواعلیٰ موددی ؒنے ۲۳۹۱ء سے اپنے رسالے ترجمان القرآن کے ذریعے لوگوں کو اس طرف بلاتے رہے۔ سید موددیؒ کے اس پیغام کو

ایک شام ِ آگہی بنام ’پروفیسر ڈاکٹر رائیس احمد صمدانی‘! (شیخ خالد زاہد)

السلام علیکم دنیا کا وطیرہ رہا ہے کہ اس نے ہمیشہ اس دار فانی سے گزر جانے والوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کس کس طرح سے کیا یہ بھی دنیا کے سامنے ہے۔ اس بات کا دکھ ہمیشہ

تبدیلی اور مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان ۔۔۔ تحریر : محمد ریاض پرنس

ہائے ہائے تبدیلی کو کس نے نظر لگا دی۔آخر کیا قصور تھا ہمارا۔تبدیلی کیوں نظر نہیں آرہی۔ کب یہ تبدیلی آئے گی۔کب مہنگائی اوربے روزگاری کا خاتمہ ہو گا۔بابا جی اپنے پرانے دور کے دوستوں سے گپ شپ لگا رہے

ہم ناکام کیوں ۔۔۔تحریر :رامین ملک

ہم بہت کچھ اس لیے حاصل نہیں کرپاتے کہ ہمیں بہت کچھ کرنے کے لیے ڈھیر ساری دولت،دوست،عوامل اور وسائل چاہیے ہوتے ہیں۔ اس طرح گھنٹوں سے دن،دن سے ہفتے،ہفتوں سے مہینے،مہینوں سے سال گزرتے جاتے ہیں اور پھر ہمارے

لکھیں ۔۔۔ مگر کیسے؟ ۔۔۔ تحریر : محمد راشد ندیم

میں سمجھتا ہوں ”بزم قلم“ میں بڑے بڑے درخشاں ستاروں کی موجودگی میں میرا کچھ کہنا ذرہ بے نشاں کے مترادف ہوگا مگر پھر بھی لب پر آئی بات دوسروں تک پہنچادینے میں مضائقہ نہیں سمجھتا۔ جواحباب کچھ لکھنا چاہتے

معلمی بطور پیشہ یا پیسہ ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

  حقیقت یہ ہے کہ زمانہ قدیم سے دورِ جدید تک ہم انسانی زندگی کے تمدنی ارتقا کا اگر مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ نہ صرف اہل علم وفکر اور دانش بلکہ ہر مذہب نے اخلاقیات، تمدن اور

معافی۔۔۔۔تحریر :علینہ ارشد

آج بہت شدت سے تمھاری یاد آ رہی ہے. دوستی کا جب ہاتھ بڑھایا تھا تو کچھ اصول تم نے طے کیے تھے. اور میں ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ اصول کچھ نہیں ہوتے دوستی تو بس دوستی ہوتی ہے.

جنرل جہانگیر کرامت

  جنرل جہانگیر کرامت (بارہ جنوری ۱۹۹۶ء تا سات اکتوبر ۱۹۹۸ء) جنرل کاکڑ کی سبک دوشی کے وقت جنرل جہانگیر کرامت ہی سب سے سینیئر جنرل تھے چنانچہ انھیں اگلا سپہ سالار بنا دیا گیا۔ جنرل جہانگیر کرامت 20 جنوری

عید کے رنگ۔۔۔۔مدیحہ ریاض

عید نام ہے خوشیوں ، رنگوں اورقہقوں کھلکھلاہٹوں کا۔عید کادن پیغام ہے امن و محبت ،بھائی چارے اور رواداری کا۔عید کا دن مسرتوں سے بھرپور دن ہوتا ہے ہر طرف کھلکھلاتے مسکراتے چہرے بہار کا سماں پیش کر رہے ہوتے

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

عالمی رہنماؤں میں ہمیں جنہوں نے سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں نیلسن منڈیلا کے علاوہ صدام حسین سرِ فہرست ہیں۔ صدام حسین سے پہلا تعارف شاید چھ اگست 1990 کو ہوا تھا جب عالمی منظرنامے پر ایک ہی