گرین شرٹس کی سیمی فائنل تک رسائی کا معجزہ دعاؤں سے ہی ممکن ہے ۔۔۔ بنگلہ دیش اور انگلینڈ کی شکست پاکستان کو ٹاپ فور میں پہنچا سکتی ہے۔

چیچہ وطنی، سے مقصود احمد سندھو، کی ڈائری

کرکٹ ورلڈکپ کا جادو اس وقت سر چڑھ کربول رہا ہے اورکرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے پوری دنیامیں اس کے دیوانے کرکٹ بخارمیں بری طرح مبتلا ہیں۔پاکستان میں بھی حال کچھ مختلف نہیں ہے اورہماری قومی کرکٹ ٹیم دنیاکی وہ باکمال اورناقابل یقین ٹیم ہے جو کسی بھی وقت کسی بھی مقام پرکسی بھی مضبوط سے مضبوط ٹیم کوہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے اورہمارے کھلاڑی کسی بھی کمزورسے کمزور ٹیم سے کسی بھی جگہ ہارکرتماشائیوں پرسکتہ طاری کرسکتے ہیں۔عوام کے قیافے،تجزیہ نگاروں کے تجزئیے،تبصرہ نگاروں کے اندازے اورقوم کی امیدیں جب ٹیم کے جیتنے کے حق میں ہوں تو ہمارے کھلاڑی تمام خواہشات کوناقص کارکردگی کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں اورجب مایوسی قنوطیت کی حدوں میں داخل ہونے لگتی ہے توان کی حیران کن کارکردگی پھرسے امیدوں کے دیپ جلادیتی ہے یوں جب تمام امیدیں حسرتوں میں بدل جاتی ہیں تب دعائیں رنگ لانا شروع کردیتی ہیں اورقومی ٹیم کی غیرمعمولی کارکردگی لوگوں کوایک بارپھرٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھنے پر مجبورکردیتی ہے اب کی بار جاری ورلڈکپ میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے جب قومی ٹیم ویسٹ اینڈیزجیسی کمزورٹیم کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اوراپنا ابتدائی میچ بری طرح ہارگئی،سری لنکاکے ساتھ میچ بارش کی نذرہونے کے بعدجب گرین شرٹس نے میزبان انگلینڈجیسی ہارٹ فیوریٹ ٹیم کوچاروں شانے چت کردیا توجیسے ہی جیت کی دوڑمیں شامل ہونے کی کچھ ڈھارس بندھی تبھی امیدوں کاہمالہ آسٹریلیاکے خلاف میچ کے بعد زمین بوس ہوگیا اور روائتی حریف بھارت سے ہزیمت اٹھانے کے بعدقوم کے جذبات کوشدیددھجکالگااورمایوسی اپنی انتہاؤں کوچھونے لگی اگلے ہی میچ میں جنوبی افریقہ کودھول چٹانے والے شاہینوں نے نیوزی لینڈکی ناقابل شکست ٹیم کوہراکر92کے ورلڈ کپ کی یادتازہ کردی اورتاریخ خود کودہراتی ہے کے مقولہ کوسامنے رکھتے ہوئے گزشتہ جیتے ہوئے ورلڈ کپ کے ساتھ مماثلت تلاش کرتے ہوئے قوم پھرسے چہکنے لگی اورمنچلوں نے تو مماثلت ڈھونڈتے ہوئے اداکارہ انجمن کی شادی تک کوبھی نہ بخشا۔دلچسپ تبصروں اورمماثلتوں کا سلسلہ تاحال سوشل میڈیاکی زینت بناہواہے۔ایک دلچسپ بات یہ بھی چل رہی ہے کہ پاکستان کے آخری تین میچوں میں بالترتیب نیوزی لینڈ،افغانستان اوربنگلہ دیش کے پہلے حروف(NAB) کی مناسبت سے ٹیم کامعرکہ ”نیب“ کے ساتھ قراردیاجارہاہے۔ موجودہ حالات میں لفظ ”نیب“ دہشت اورخوف کی علامت ہے شائدیہی وجہ ہے کہ ٹیم ”نیب“ کے خوف سے غیر معمولی کارکردگی دکھارہی ہے، جنوبی افریقہ کے میچ کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف اورڈی جی آئی ایس پی آرکی گراؤنڈمیں موجودگی نے کھلاڑیوں کے مورال اورحوصلہ میں اضافہ کیااس وقت پوائنٹس ٹیبل پرپاکستان،انگلینڈ،نیوزی لینڈ،سری لنکا،ہندوستان اورآسٹریلیاکے ساتھ سیمی فائنل کی دوڑمیں شامل ہے اگرباقی ماندہ میچوں کو دیکھاجائے تو انگلستان کے ہاتھوں بھارت کوشکست کے بعد انگلینڈکے راستے کی آخری رکاوٹ نیوزی لینڈہے اورنیوزی لینڈکے ہاتھوں میچ ہارنے کی صورت میں اس کا ورلڈکپ کاسفر ختم ہوسکتاہے۔جبکہ پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا انحصار انگلینڈاوربنگلہ دیش کی شکست پرمنحصر ہے۔کیونکہ پاکستان کامقابلہ نسبتاََ کمزور حریف سے ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کیلئے قوم پرامیدہے اور یہ معجزہ صرف قوم کی دعاؤں سے ہی ظہورپذیرہوسکتاہے اسی طرح پاکستان سے ہارنے والی کیوی ٹیم انگلستان سے میچ ہارنے کی صورت میں واپسی کاٹکٹ کٹاسکتی ہے۔سری لنکا کوویسٹ اینڈیزجیسی کمزور اورناقابل یقین ٹیم کے علاوہ پیشہ ور انہ صلاحیتوں کی حامل مضبوط ٹیم بھارت کاسامنا ہے۔سری لنکااگلے تمام میچ جیت کر 10 پوائنٹس تک جاسکتی ہے جس کی وجہ سے وہ ایک کمزور امیدوارکی حیثیت رکھتی ہے۔اس کے علاوہ افغانستان اورانگلینڈکے بھارت سے مقابلے شائقین کرکٹ میں زیر بحث ہیں ان کے خیال میں کھیل کے میدانوں میں سیاست اورمنافقت کا نمایاں رنگ آنے لگاہے بڑی تعدادمیں لوگوں کا خیال ہے کہ آئی سی سی سے منسلک کرکٹ کھیلنے والے ممالک کواس پرخصوصی توجہ دینی چاہئے۔”نیب“کے قصے اورامیدو ں کے سلسلے کوایک طرف رکھ کردیکھاجائے تو پاکستانی ٹیم کے حوالہ سے سابق آسٹریلوی کپتان مایہ نازکرکٹررکی پونٹنگ کا پاکستانی ٹیم کے بارے میں کیا گیا تبصرہ موضوع بحث بناہواہے جس میں انہوں نے پاکستان کو ناقابل یقین قراردیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کامقابلہ خوداس کے اپنے ہی ساتھ ہوتاہے پاکستان کوصرف پاکستان ہی ہراسکتاہے۔یہ ٹیم خود اپنی دشمنی پرآمادہ ہوجاتی ہے یہ دلچسپ تبصرہ اپنے اندربہت سے سوالات سموئے ہوئے ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اداروں میں بہتری کے نعرے سے برسراقتدارآئی ہے اس کے قائد عمران خان 92کے ورلڈکپ کے فاتح بھی ہیں اس لئے انہیں دیگرچیلنجزو ں سے نپٹنے کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان میں بھی ملکی وقار کا جھنڈابلندکرناہوگاخاص طورپرکرکٹ کے ڈھانچے میں بھی انقلابی اصلاحات لانا ہونگی اس کے علاوہ ہاکی،ایتھلیٹکس اورسکواش پربھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے جس کے لئے میرٹ کی بالادستی کویقینی بناناہوگااورقومی خزانے پربوجھ بننے والے افراد سے جان چھڑاکراہل اورقابل لوگوں کوسامنے لاناہوگا۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کوازسرنو ترتیب دیناہوگا اسی طرح سکول اورکالجزکی سطح پرکھیلوں کے فروغ کے لئے اقدامات اٹھاناہونگے ورنہ جس طرح افغانستان کے ساتھ میچ میں ڈوبتی ابھرتی نبضوں،رکتی اوربحال ہوتی ہوئی سانسوں اورخون کے اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا ڈر ہے کہ اسے مزیدطوالت نہ مل جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(Visited 7 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *