پولیس نے 48 گھنٹوں میں خواجہ سراؤں کے اندھے قتل کا سراغ لگا لیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے حکم کی بجا آوری

کیا باقی کیسزمیں بھی پولیس اپنے اس معیارکوقائم رکھ پائے گی؟؟ ۔

چیچہ وطنی سے ۔۔۔ مقصود احمد سندھو کی کرائم ڈائری

خواجہ سرا نادیہ اورخواجہ سرا مسکان کے بہمانہ قتل کامعمہ حل،مبینہ قاتل کو48گھنٹوں کے اندر گرفتار کرکے ہڑپہ پولیس نے چابک دستی کاثبوت دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی طرف سے لئے گئے نوٹس کے مقررہ وقت سے پہلے ہی سرخروئی حاصل کرلی۔پنجاب کے تاریخی شہرہڑپہ کے تھانہ میں ہفتے کی صبح اہل علاقہ کی طرف سے اطلاع دی گئی کہ ہڑپہ اسٹیشن کی کچی آبادی جناح ٹاؤن میں واقع خواجہ سراؤں کے گھرسے تعفن اوربدبواٹھ رہی ہے جس پرپولیس پارٹی بتائی گئی جگہ پر پہنچی اور دروازہ توڑکراندرداخل ہوئی تو 30/32سالہ خواجہ سرا اشفاق عرف نادیہ اور25/30سال کی عمرکے سلمان عرف مسکان کی متعفن اورمضروب نعشیں برآمدہوئیں جن کی گردن اورسرپروارکرکے انہیں بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیاتھاپولیس نے ابتدائی شواہداکٹھے کرنے کے بعد نعشوں کوپوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال روانہ کیا اورنامعلوم شقی القلب قاتلوں کے خلاف ایف آئی آردرج کرکے تفتیش شروع کردی۔خواجہ سراؤں کے قتل کی خبرنشرہوتے ہی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے نوٹس لیتے ہوئے آرپی اوساہیوال کوحکم دیاکہ قاتلوں کوفوری طورپرگرفتارکیاجائے اوراس کی رپور ٹ 72گھنٹوں کے اندر انہیں پیش کی جائے جس پرساہیوال پولیس کی دوڑیں لگ گئیں۔ڈی پی اوساہیوال کیپٹن (ر)محمدعلی ضیاء نے قاتلوں کی گرفتاری کاٹاسک مستعد،فعال اورمتحرک نوجوان پولیس افسرذیشان بشیرڈوگرکوسونپاجنہیں جدیدانداز میں تفتیش کرکے فوری طورپرمجرموں کاسراغ لگانے میں مہارت تامہ حاصل ہے جن کیلئے دوہرے قتل کے مجرموں کی گرفتاری کسی کڑے امتحان سے کم نہ تھی اوران کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب اوراپنے افسران بالاکے حکم کی بجا ء آوری ایک مشکل مرحلہ تھا کہ وہ کتنی جلدی خواجہ سراؤں کے قاتلوں کوگرفتارکرکے انجام تک پہنچاتے ہیں۔ایس ایچ اوذیشان بشیر ڈوگر،تفتیشی افسراے ایس آئی امجدحسین اوران کی ٹیم نے فوری طورپرٹیکنیکل اورجدیدطریقہ تفتیش اپناتے ہوئے دوہرے قتل کے اس معاملے کو36گھنٹوں میں ہی حل کرلیااورزبیرنامی مبینہ قاتل کوگرفتار کرکے آلہ قتل اورگندے نالے میں پھینکے گئے خواجہ سراؤں کے موبائل بھی برآمدکرلئے ملزم نے ذاتی رقابت کووجہ قتل بتایاہے جس کی مزیدتفتیش ابھی جاری ہے۔ خواجہ سراؤں کی مخلوق معاشرے میں ٹھکرائی ہوئی اورمظلومیت کی تصویرہے آئے روز ان پر تشدد اوران کے قتل کے واقعات رونماہوتے رہتے ہیں جن کی بڑی تعداد خیبرپختونخواء میں سامنے آئی ہے تمام ویب سائٹس کوچیک کرنے کے بعد خواجہ سراؤں کے ہونے والے قتل اورتشدد کے واقعات کے اعداد وشمار صرف صوبہ خیبرپختونخواء کے ہی دستیاب ہیں پنجاب،سندھ اوربلوچستان میں گو یہ واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں مگران کے اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔خواجہ سراؤں کے قتل کے اس کیس میں ضلع ساہیوال کی پولیس کی مستعدی اپنی مثال آپ ہے اور اس معمہ کے فوری حل پرشہرکی سیاسی،سماجی تنظیموں اورشخصیات نے پولیس کی کارکردگی کوسراہتے ہوئے اس امید کااظہارکیاہے کہ ضلع میں ہونے والے دیگرقتل اورچوری ڈکیتی کے ملزمان کوانہیں سائنٹفک اور جدیدخطوط پراستوار طریقہ تفتیش اپناتے ہوئے فوری گرفتارکیاجائے گاان کے خیال میں اگرپولیس دیگرکرائم میں روائتی انداز اپناتی ہے تو عوام ہرمعاملے پروزیراعلیٰ پنجاب،وزیراعظم اورسپریم کورٹ کے جج صاحبان کوبراہ راست اپیلیں کرنے میں حق بجانب ہوگی۔کیپٹن (ر)محمدعلی ضیاء کے ضلع ساہیوال کا چارج سنبھالنے کے بعدضلع بھرمیں جرائم کی شرح میں واضح طورپرکمی واقع ہوئی ہے انہوں نے سرکل میں تعینات پولیس افسران کے درمیان مقابلے کی مثبت فضاء قائم کرکے کارکردگی کوبہترسے بہترکرنے کے رجحان کوفروغ دیاہے اس کی واضح مثال چیچہ وطنی تھانہ سٹی اورصدرکے درمیان ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کاجذبہ ہے جس نے مجروموں اورجرائم پیشہ افراد کے گردپولیس کاگھیرامزیدتنگ کر رکھا ہے اوران کی شامت آئی ہوئی ہے۔ گزشتہ روزچیچہ وطنی کے علاقہ ہاؤسنگ کالونی میں عرفان صدیق نامی شخص نے زبردستی گھرمیں داخل ہوکردوخواتین کوزخمی کرکے بچے کواغواء کرلیاجسے ایس ایچ اوسٹی رانامحمدآصف سرورنے 24گھنٹے کے اندرگرفتارکرلیا۔رانامحمدآصف سرورکواپنی پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت قدرکی نگاہ سے دیکھاجاتاہے اس سے پہلے بھی وہ ایسے کئی کیسزمیں بچوں کوبازیاب اورڈھونڈکر ان کے والدین کی تسکین قلب کاسامان کرکے دعائیں لے چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرکیپٹن(ر)محمدعلی ضیاء کی ہدایت پرجرائم پیشہ عناصرکے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اورمختلف علاقوں میں مجرموں کی سرکوبی کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں منشیات فروش اورمویشی چور گروپ گرفتاربھی کئے گئے ہیں مگرتشویش کی بات یہ ہے کہ نواحی علاقوں سے مویشی چوری کی خبریں اخبارات کی زینت بن رہی ہیں خاص طورپرعید قربان کی آمد آمد ہے اورمویشی چورسرگرم ہیں۔علاقہ اقبال نگرسے لاکھوں روپے مالیت کے بکرے اوردیگرمویشی چوری ہونے کی خبروں نے علاقہ میں سراسیمگی پھیلائی ہوئی ہے۔ شہریوں کاکہناہے کہ پولیس پے درپے وارداتوں کاسراغ لگانے میں بے بس دکھائی دیتی ہے اس سنگین صورتحال پرعوامی اورسماجی حلقوں کاکہناہے کہ ڈی پی اوساہیوال فی الفورنوٹس لیتے ہوئے مویشی چوروں کے خلاف خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دیں تاکہ عیدپرہونے والی مویشی چوری اورسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کوروکاجاسکے۔اہل علاقہ کو ڈی پی اوساہیوال سے اس لئے بھی امیدیں وابستہ ہیں کہ انہوں نے خدمت کاؤنٹر قائم کرکے عوام کی سہولت کاسامان کرنے کے علاوہ عوامی شکایات کے حل اور ان میں کمی کیلئے محکمہ پولیس میں کئی اصلاحات کی ہیں وہ ایک درددل رکھنے والے منتظم اوربہترین صلاحیتوں کے حامل پولیس افسرہیں جنہوں نے عوام کے ساتھ ساتھ محکمہ کے افراد کا بھی مورال بلندکیاخاص طورپررضاکاروں کی طویل مدت سے رکی ہوئی تنخواہوں کا مسئلہ حل کرکے کئی گھروں کے چولہے بجھنے سے بچائے۔اہلیان علاقہ امید رکھتے ہیں کہ وہ اسی طرح جانفشانی سے کام کرتے ہوئے پولیس کی استعدادکارمیں اضافہ کریں گے۔

(Visited 13 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *