غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 1 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

  صُبح یونیورسٹی کا پہلا دن تھا، اور حُوری ابھی تک ڈریس کی سلیکشن میں کنفیوز تھی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ پہلا تاثر بہت معنی خیز ہوتا ھے۔۔۔
اپنی ماما کے کمرے میں 5-6 ہینگروں سمیت کپڑوں کے جوڑے اُٹھا کر شیشے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔۔
ماما !۔۔۔ آپ بتائیں ناں کونسے والا پہنوں؟ ۔۔۔
یہ گرین والا یا پھر آف-وائٹ پہلا دن ھے زرا ڈیسنٹ لُک آنی چاہیئے ناں۔۔۔
حُوری: علیشاء۔۔۔
تم تو بس جلتی رہنا کبھی اپنی رائے مت دینا تم سے زیادہ پیاری جو ھوں جلتی رہنا بس۔۔۔
حُوری نے طنزیہ اپنی چھوٹی بہن کو بھی کھری کھری سنا دیں جو کہ ماما کی طرف آنکھ مارتے ھوئے اُس (حُوری) کو غصہ دلانے کیلئے ہنسی جا رہی تھی۔۔۔
حوری: ماما’ آپ بھی اب اس کے ساتھ مل گئیں ھیں۔۔۔

حوری غصے سے وہاں سے کپڑوں کی دُکان سمیٹ کر اپنے کمرے میں چلی جاتی ھے۔۔۔
ماما: قہقہ لگاتے ھوئے علیشاء۔۔۔۔۔۔۔ تم بھی ناں!! “۔۔۔
بڑی بہن ھے تمھاری بتا دیتی اب ساری رات وہ یہی سوچنے میں گزار دے گی کہ صُبح کیا پہنے۔۔۔
ماما کے یوں بات کرنے کے انداز سے علیشاء پھر سے ہنس پڑی۔۔۔
“علیشاء” رنگ میں حُوری سے تھوڑی سانولی  تھی مگر نقش نین کے لحاظ سے دونوں بہنیں جُڑواں لگتیں بلکہ، حُوری تو قد و قامت میں علیشاء سے بھی چھوٹی دکھتی تھی…
یونیورسٹی کے پہلے دن جُونہی حوری یونیورسٹی میں انٹر ہوتی ھے تو اسے ایک لڑکی آ کر کہتی ھے کہ وہ سامنے کھڑا لڑکا اُسے کچھ کہنا چاہتا ھے، حُوری حیرت بھری نظروں سے اُس لڑکی کو دیکھنے کے بعد سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھتی ھے جو کہ کینٹین کے پاس کھڑا کسی قسم کے نوٹس دیکھ رہا تھا شاید۔۔۔
حُوری اس کے پاس جا کر۔۔۔

ھیلو!!  مسٹر ..کیا کہنا ھے آپ نے؟ ۔۔
وہ لڑکا پیچھے مڑ کر اُسے حیرت سے دیکھنے لگتا ھے۔۔۔ واٹ (What) ؟۔
آپ سے کس نے کہا کہ میں آپ سے کچھ کہنے والا ھوں؟۔

    حُوری جُونہی پیچھے مڑی تو لڑکے لڑکیوں کا ایک گروہ اس کے پیچھے کھڑا اس کی جانب اشارے کر کر کے ہنس رہا تھا۔۔۔
چونکہ آج اُس کا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا اس لیے یہ اس کے سینئرز کا گروپ تھا جو کہ اس کے ساتھ ۔(Prank) ۔کر رہے تھے، جو کہ ہر نئے آنے والے سٹوڈنٹ کیساتھ کیا جاتا تھا۔
مگر حُوری اس بات سے انجان تھی، جو لڑکی اُس کے پاس آئی تھی اُس نے بڑے ہی آرام سے حُوری کی شرٹ کے پچھلی سائیڈ جوگرز شوز کا اشتہاری بانڈ چسپاں کر دیا تھا جسے دیکھ کر سب اس کا مذاق بنا رہے تھے۔۔۔

(Visited 24 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *