غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 2 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

حُوری جو کہ کافی

(Confident)

 لڑکی تھی، اُن سب کو خود پر ہنستا دیکھ رونے والی شکل بنا لیتی ہے۔
وہ لڑکا جس کے پاس اُسے بھیجا گیا تھا( مسٹر ہینڈسم) وہ کوئی سٹوڈنٹ نہیں بلکہ اُنکا نیا سائیکالوجی ٹیچر تھا جس کا تبادلہ شاید کسی دوسرے شہر سے یہاں ہو گیا تھا ۔اُس نے بھی آج ہی یہ یونیورسٹی جوائن کی تھی۔

ہینڈسم اور ڈیسنٹ دِکھنے کے ساتھ ساتھ وہ کافی یَنگ بھی تھا جسے دیکھ کر شاید اس بات کا اندازہ لگانا واقعی مشکل تھا کہ یہ سٹوڈنٹ ھے یا پھر کوئی ٹیپچر۔۔۔۔۔۔
حُوری زمین پر نظریں گاڑھے رونے والی شکل بنائے کھڑی تھی اور اس کیفیت سے اس کا رنگ بالکل زرد پڑ گیا تھا ۔
ایک نظر حُوری کی طرف دیکھنے کے بعد “شاہ زین” (سائیکالوجی ٹیچر) بھی اس پر طاری کیفیات کا اندازہ لگا چکا تھا، اُس نے اُن سب کو پرنسپل کے آفس بُلا کر خود تو بے عزت کیا ہی اُس کے ساتھ ہی پرنسپل سے بھی خُوب جھڑوایا تاکہ آئندہ لڑکیوں کے ساتھ اس قسم کا مذاق کرنے کی جرت سے باز آئیں۔
پہلے لیکچر کا وقت ہو گیا حوری کلاس روم کے پہلے بینچ پر بیٹھی تھی جہاں سے وائیٹ بورڈ تقریباً 2 فٹ کی دوری پر تھا پہلا لیچر انگلش کا تھا جو کہ 45 منٹ کا تھا ۔۔۔۔ بالکل بور گزرا تھا Mam ۔(فائزہ) کے بولے جانے والے تمام تر جملے حُوری کے سر کے اوپر سے گزرے تھے ۔
باقی لیکچرز میں بھی اسکا بالکل دل نہیں لگ رہا تھا اسکی حالت بالکل ایسی تھی جیسے کہیں راتوں سے سوئی نہ ہو اور آج ہی پُرسکون ماحول ملا ھو وہ بھی طرح طرح کی لوریوں کیساتھ۔۔

۔40۔ منٹ کے وقفے کے بعد آخری لیکچر تھا۔۔۔۔
اس لئے تمام سٹوڈنٹس اُٹھ کر کلاس سے باہر نکل گئے،، حُوری پہلے تو چند منٹ تک کلاس کا جائزہ لیتی رہی اس کے بعد جینز کو اُوپر کیطرف فولڈ کر کے شوز جھاڑ کر شانوں پر بکھرے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے خود کو پُر اعتماد محسوس کرواتے ہوئے کلاس روم سے باہر، داہنی طرف موجود کینٹین کیطرف چل پڑی۔۔۔۔۔۔
وہاں پہلے 10 منٹ تو اُس نے کینٹین کے باہر چسپاں مینو کو دیکھنے میں گزار دئیے۔۔۔۔
حُوری سے کسی بھی کام میں جلدی کی توقع کرنے سے بہتر ھے کہ اپنا سر کسی دیوار کیساتھ مار لیا جائے، کیونکہ اسے تو ہر چیز کے فائدے_ نقصان گننے کے بعد ہی اُسے کرنا ہوتا ھے، پھر چاہے جو مرضی کیوں نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔

(Visited 23 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *