سوانح صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ۔۔۔ تحریر : حبیب اللہ اورکزئی

آپ کا نام عبداللہ ،لقب صدیق و عتیق ااور کنیت ابوبکر ہے ۔آ پ کا نسب نامہ ساتویں پشت پر حضور ﷺ سے جا کر ملتا ہے ۔
والد کا نام عثمان کنیت ابو قحافہ اور والدہ کا سلمیٰ کنیت امّ الخیر واقعہ فیل کے دو سال اور چار ماہ بعد اور آنحضرت ﷺ کی ولادت مبارکہ کے دو سال اور کچھ ماہ بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ۔مر دوں میں سب سے پہلے اسلام لائے تریسٹھ سال کی عمر میں ۲۲ جمادی الثانی ۱۳ھ کو وفات پا ئی اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارکہ میں جناب نبی کریم ﷺ کے پہلو مبارک میں دفن ہوئے ۔یار غار اور یار مزار کالقب پایا ۔
۔(تاریخ الخلفاء)۔

قبل از اسلام : ۔ 

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہسلام سے قبل ایک متموّل تاجر کی حیثیت رکھتے تھے اور انکی دیانت ،راستبازی اور امانت کا خاص شہرہ تھا ،اہل مکہ ان کو علم ،تجربہ اور حسن خلق کے باعث نہایت معزّز سمجھتے تھے ،ایّام جاہلیّت میں خون بہا کا مال آپ ہی کے ہاں جمع ہوتا تھا اگر کسی دوسرے کے ہاں جمع ہوتا تو اسے تسلیم نہیں کیا جاتا۔
حضر ت ابوبکررضی اللہ عنہکو ایام جاہلیت میں بھی شراب سے ویسی ہی نفرت تھی جیسی زمانہ اسلام میں ،اس قسم کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ شراب نوشی میں نقصان آبرو ہے ۔آنحضرتﷺ کے ساتھ بچپن ہی سے ان کو خاص انس اور خلوص تھا اور آپ ﷺ کے حلقہ احباب میں داخل تھے اکثر تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا شرف حاصل ہوتا تھا ۔

قبول اسلام :۔

حضرت کعب رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ ابوبکر صدیقارضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا بذریعہ وحی تھا وہ اسطرح کہ آپ بغرض تجارت شام گئے وہاں آپ نے ایک خواب دیکھا اور بحیرہ راہب سے بیان کیا بحیرہ نے کئی سوالات پوچھنے کے بعد خواب کی تعبیر بتائی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے خواب کو حقیقت بنا کر مشاہدہ میں اسطرح لائے گا کہ تمہاری قوم میں سے ایک نبی کو مبعوث فرما ئے گا اور تم اس نبی کے صاحب معتمد اور مشیر اعلیٰ ہوگے اور وفات کے بعد خلیفہ نبی ہوگے ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہنے اس واقعہ کو پوشیدہی رکھا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے ۔اسوقت صدیق اکبررضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کیا :اے آقاﷺ آپ کے دعوی نبوّت کی دلیل کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ خواب جسکو آپ نے شام میں دیکھا تھا آپ یہ جواب سن کر آپﷺ سے چمٹ گئے اور’’ اشہد انّک رسول اللہ ‘‘کہ کر اسلام قبول کیا۔
۔ (ابن عساکر تاریخ دمشق)۔
اس کے علاوہ ارباب سیر نے آپ کے قبول اسلام کے مختلف قصّے نقل کیے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہکا آئینہ دل پہلے سے صاف تھا فقط خورشید حقیقت کی عکس افگنی کی دیر تھی ۔گزشتہ صحبتوں کے تجربوں نے نبوّت کے خدوخال کو اس طرح واضح کردیا تھا کہ معرفت حق کے لیے کوئی انتظار باقی نہ رہا تھا۔

خلافت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہکو مسند آراء خلافت ہوتے ہی اپنے سامنے صعو بات ،مشکلات اور خطرات کا ایک پہاڑ نظر آنے لگا ۔ایک طرف جھوٹے مدعیا ن نبوّت اٹھ کھڑے ہوئے تھے دوسری طرف مرتدین اسلام کی ایک جماعت علم بغاوت بلند کیے ہوئے تھی منکرین زکوٰۃ نے علیحدہ شورش بر پاکر رکھی تھی ان دشواریوں کے ساتھ اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ کی مہم بھی درپیش تھی جس کو آنحضرت ﷺنے اپنے حیات ہی میں شام پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا تھا اسی مہم کے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رائے دی کہ اس کو ملتوی کرکے پہلے مرتدین و کذّاب مدعیان نبوّت کا قلع قمع کیا جائے ۔لیکن خلیفہ اوّل کی طبیعت نے گوارہ نہ کیا کہ ارادہ نبوی معرض التواء میں پڑ جائے ۔چنانچہ آپ رضی اللہ عنہنے برہم ہوکر فرمایا ’’خدا کی قسم !اگر مدینہ اس طرح آدمیوں سے خالی ہو جائے کہ درندے آکر میری ٹانگ کھینچنے لگیں جب بھی میں اس مہم کو روک نہیں سکتا ‘‘۔
چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے خطرات و مشکلات کے باوجود اسامہ رضی اللہ عنہ کو روانگی کا حکم دیا ۔ساتھ ہی مدعیان نبوّت کا قلع قمع کرنے کے لیے خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کے ساتھ روانہ فرمایا ،مرتدین و منکرین زکوٰۃ کو جانشین رسول ﷺ نے اپنی روشن ضمیری اور غیر معمو لی استقلال کے باعث نہ صرف اس کو گل ہونے سے محفوظ رکھا بلکہ پھر اسی مشغل ہدایت سے تمام عرب کو منوّر کر دیا ۔
آپ رضی اللہ عنہنے اپنے زمانہ خلافت میں ملکی نظم و نسق ،نظام خلافت ،حکام کی نگرانی ،تعزیر و حدود ،مالی انتظامات ،فوجی نظام ،سامان جھنگ کی فراہمی فوج کی اخلاقی تربیت ،فوجی چھاؤنیوں کا معائنہ ،ذمّی رعایا کے حقوق ،بدعات کا سدّ باب ،خدمت حدیث اور اشاعت اسلام کا بے مثال نمونہ پیش کیا آپ کا سب بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے قران مجید کے متفزّق اجزاء کو صرف ایک کتاب کی صورت میں جمع کرایا ۔جو بعدمیں حضرت عمررضی اللہ عنہکے قبضہ میں آیا انہوں نے حضرت حفصہرضی اللہ عنہا کے حوالے کیا ۔چنانچہ حضرت عثمان نے اپنے عہد خلافت میں عاریۃلیکر اسکے چند نسخے نقل کرکے دوسرے مقامات پر روانہ کردیے یہ مصحف حضرت حفصہ رضی اللہ عنہکے انتقال کے بعد مروان نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہسے لیکر ضائع کردیا ۔

مرض الموت اور استخلاف عمر فاروق رضی اللہ عنہ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہکی خلافت کو ابھی سوا دو برس ہوئے تھے کہ پیام اجل پہنچ گیا حضرت عائشہرضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ ایک دن جبکہ مو سم نہایت سرد و خنک تھا آپ نے غسل فرمایا غسل کے بعد بخار آگیا اور مسلسل پندرہ دن تک شدت کے ساتھ قائم رہا اسی اثناء میں مسجد میں تشریف لانے سے بھی معذور ہوگئے چنانچہ آپ کے حکم سے حضرت عمررضی اللہ عنہ امامت کی خدمت انجام دیتے رہے مرض جب روز بہ روز بڑھتا گیا اور افاقہ سے مایوسی ہوتی گئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کرکے جانشینی کے متعلق مشورہ کیا اور حضرت عمررضی اللہ عنہ کانام پیش کیا جس پر متعدد صحا بہ کرام ر ضی اللہ عنہم کو حضرت عمر رضی اللہ عنہکے تشدّد کے باعث پس و پیش تھی جسکے جواب میں حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب خلافت کا بار پڑے گا تو ان کو خود نرم ہونا پڑے گا ۔غرض سب کی تشفّی کرنے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلاکر عہد نامہ خلافت لکھوانا شروع کیا ابھی ابتدائی الفاظ ہی لکھے جا چکے تھے کہ غش آگیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہنے یہ دیکھ کر اپنی طرف سے حضرت عمررضی اللہ عنہ کا نام بڑھا دیا تھوڑی دیر بعد جب ہوش آیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ پڑھ کر سناؤ انہوں نے پڑھا تو بے ساختہ اللہ اکبر پکا ر اٹھے اور کہا خدا تمکو جزاء خیر دے تو نے میرے دل کی با ت لکھ دی اس کے بعد حضرت عمررضی اللہ عنہ کو بلا کر نہایت مفید نصیحتیں کیں جو ان کی کامیاب خلافت کے لیے عمدہ دستورالعمل ثابت ہوئیں۔
۔ (طبقات ابن سعد)۔
اس فرض سے فارغ ہونے کے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے ذاتی اور خانگی امور کی طرف توجہ کی ۔حضرت عائشہرضی اللہ عنہا کو انہو ں نے مدینہ یا بحریں کے نواح میں اپنی ایک جاگیر دے دی تھی لیکن خیال آیا کہ اس سے دوسرے وارثوں کی حق تلفی ہو گی اس لیے فرمایا ’جان پدر! افلاس و امارت دونوں حالتو ں میں تم مجھے سب سے زیا دہ محبوب رہی ہو لیکن جو جاگیر میں نے تمہیں دی تھی کیا تم اس میں اپنے بھائی بہنوں کو شریک کر لو گی ؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے حامی بھر لی۔ تب آپ نے بیت المال کی قرض کی ادائیگی کے لیے وصیت فرمائی اور کہا کہ ہمارے پاس مسلمانوں کے مال میں سے ایک لونڈی اور دو اونٹنیو ں کے سوا کچھ نہیں۔عائشہ! میرے مرتے ہی یہ عمر کے پاس بھیج دی جائے حضرت عائشہرضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ میری تجہیز و تکفین سے فارغ ہو کر دیکھنا کوئی اور چیز تو نہیں رہ گئی ہے ؟اگر ہو تو اس کو بھی عمررضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دینا۔تجہیز و تکفین کے متعلق فرمایا کہ اس وقت جو کپڑا بدن پر ہے اسی کو دھو کر دوسرے کپڑوں کے ساتھ کفن دیناحضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے عرض کیا کہ یہ تو پرانا ہے کفن کے لیے نیا ہونا چاہیے فرمایا؛ زندے مردوں کی بنسبت نئے کپڑوں کے زیادہ حقدار ہیں میرے لیے یہی پٹھا پرانا بس ہے ۔
اس کے بعد پوچھا آج کون سا دن ہے ؟لوگوں نے جواب دیا دو شنبہ پھر پوچھا رسول اللہﷺ کا وصال کس روز ہوا تھا کہا گیا دو شنبہ کے روز فرمایا تو پھرمیری آرزو ہے کہ آج ہی رات تک اس عالم فانی سے رحلت کر جاؤں چنانچہ یہ آخری آرزو بھی پوری ہو کر راہ گزیں عالم جادواں ہو ئے۔

اناللہ واناالیہ راجعون 

وصیت کے مطابق رات ہی کے وقت تجہیز وتکفین کا سامان کیا گیا آپ کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہانے غسل دیا حضرت عمر فاروقرضی اللہ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھائی ۔ حضرت عثما ن رضی اللہ عنہ،حضرت طلحہرضی اللہ عنہ ،حضرت عبدالرحمان بن ابی بکررضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروقرضی اللہ عنہ نے قبر میں اتارا اور اس طرح سرور کائنات ﷺ کا رفیق زندگی آپ کے پہلو میں مدفون ہو کر دائمی رفاقت کے لیے جنت میں پہنچ گئے ۔

(Visited 50 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *