پکے پکائے دانشور ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

موجودہ دور پروپیگنڈہ جنگ کا ہے جو ملک جتنا زیادہ شور مچاتا ہے جتنا ڈھٹائی سے جھوٹ بولتا ہے جتنا زیادہ واویلا کرتا ہے دنیا اس کو سچا مان لیتی ہے اور اس کے دشمن کو دہشت گرد مان کر اس کے راستے بند کرتی جاتی ہے انڈیا اور انڈین میڈیا نے پچھلے کئی سالوں میں درپردہ سفارت کاری سے اور ذرائع ابلاغ سے پوری دنیا کو باور کروا دیا کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے پاکستان کے اندر خوفناک دہشت گردی کروائی گئی دنیا کو بتا دیا گیا پاکستان دہشت گرد پیدا بھی کرتا ہے اور ان کی پرورش بھی کرتا ہے دہشت گردی کی تربیت بھی دیتا ہے اور دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ بھی کرتا ہے پاکستان پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے پھر پوری دنیا آپ کو ٹیڑھی نظروں سے دیکھنا شروع ہو گئی آپ پر پابندیاں لگنے لگیں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچا جانے لگا دوست ممالک سے بھی آپ کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہونے لگے آپ تنہا ہوتے گئے انڈیا کے اس گھناؤنے وار کا مقابلہ آپکی حکومتوں نے کرنا تھا آپ کے میڈیا نے کرنا تھا لیکن نہ ابلیسی حکومت نے پروپیگنڈے کی جنگ میں انڈیا کا مقابلہ کیا نہ ہی ابلیس کے باپ میں جرات پیدا ہوئی بلکہ ایک نے تو پورے پانچ سال آپ کے ملک کا وزیر خارجہ ہی نہیں رکھا اور انڈیا کو بھر پور موقع دیا کہ وہ جیسے چاہے دنیا کو گمراہ کرے اور آپ کا میڈیا اپنی ملی غیرت کو بیچ کر ان شیطان حکمرانوں کے قصیدے پڑھنے میں لگا رہا سوائے اپنے لفافوں کے انہیں کچھ خیال نہ رہا سلام ہے ان ایک دو چینلوں کو جنھوں نے اس پر فتن دور میں حکمرانوں اور انڈیا کے خلاف بغاوت کا علم بلند رکھا تب پوری دنیا آپ کو دہشت گرد ریاست سمجھ کر بیٹھ گئی اور عالمی بساط کے مہروں نے کھل کر کھیلنا چاہا،پاکستان کو FATF کی گرے لسٹ میں ڈالا اور بلیک لسٹ کی تلوار سر پہ لٹکا دی
کیا تم لوگ اس سے انکار کرو گے؟ کیا پاکستان اس حالت کو نہیں پہنچ گیا تھا؟ کیا دس سال میں یہ جہنم عمران خان نے سلگایا تھا؟ کیا کیا نہیں ہوا پاکستان کے ساتھ ان دس سالوں میں مگر تم لوگ یہ سوال کر ہی نہیں سکے پھر اس شخص نے تمہیں سوال کرنا سکھایا حق مانگنا سکھایا تم لوگ عام لوگوں سے ایکدم دانشور بن گئے ”پکے پکائے دانشور“اب تم لوگ سوال کرتے ہو دانشوروں کی طرح اور غربت اور مہنگائی کا رونا روتے ہو عام عوام کی طرح جس کا کام صرف دو وقت کی روٹی کمانا ہوتا ہے پوچھتے ہو پاکستان کلبھوشن کو پھانسی کیوں نہیں دیتا؟پاکستان ڈرپوک ہے،ابھینندن کو رہا کیوں کیا؟پاکستان بزدل ہے،پاکستان کشمیر میں انڈیا پر حملہ کیوں نہیں کرتا؟پاک فوج ڈرتی ہے،پاکستان امریکہ سے انصاف کروائے گا کشمیر کا؟ پاکستان بے وقوف ہے،پاکستان نے کلبھوشن کو کونسلر رسائی بھی دے دی؟سب یہودی ایجنٹ ہیں،یہاں احتجاج وہاں احتجاج کیا کشمیر احتجاج اور جلسے جلوسوں سے آزاد ہو گا؟عوام کو پاگل بنا رکھا ہے امریکی غلاموں نے لڑو،مارو،حملہ کر دو،قبضے کر لو بزدل،ڈرپوک،وغیرہ وغیرہ ایسے جملے آجکل کثرت سے سننے کو ملتے ہیں میں کوشش کرتی تھی ان کا جواب دینے کی میری یہ جرات فیس بک والوں کو پسند نہیں آئی بین لگا دیا مجھ پر کہ میں نفرت پھیلاتی ہوں جانے ان کی اخلاقیات کا میعار کیا ہے جو انڈین میڈیا پر لاگو نہیں ہوتا وہ ہمیں طعنے دیں،کوسیں،ماریں ہم خاموش رہیں کیا اس کو آزادی اظہار کہتے ہیں؟۔
ہاں مگر وہ اس گیم میں سرخرو ہوئے ہیں کہ اب ہمارے بھولے بھالے دانشور اس طرح کے سوال جواب خود سے کرنے لگے ہیں،انڈیا نے ٹینک بنانے کی کوشش کی ناکام ہوا،کوشش تو کی نا؟انڈیا نے میزائل بنانے کی کوشش کی وہ اس کے سر میں آلگا،کوشش تو کی ہے نا؟انڈیا نے جیٹ طیارہ بنانے کی کوشش کی،بنا تو لیا لیکن اس کی اپنی ہی فوج نے استعمال کرنے سے انکار کر دیا،کوشش تو کی نا؟انڈیا نے ڈرون بنانے کی کوشش کی شروع تو کیا مگر آگے سمجھ ہی نہیں آئی کیا کرنا ہے،کوشش تو کی نا؟کروز میزائل بنانے کی کوشش کی اس نے اڑتے ہی طواف شروع کر دیا،کوشش تو کی نا؟ آبدوز بنانے کی کوشش کی اور بنا لی،پانی میں اترتے ہی ڈوب گئی،کوشش تو کی نا؟ اور اب چندرما کو چاند ہی نہیں ملا نو سو کروڑ ڈوب گئے کتنے ”بیت الخلا“ بن سکتے تھے،بھلا اس میں انڈیا کا کیا قصور،کوشش تو کی نا؟او لنڈے کے دانشورو!یہ تمام چیزیں جن میں بھارت ناکام ہوا ہے اس میں پاکستان بہترین کارکردگی کے ساتھ کامیاب ہوا ہے ان تمام چیزوں کی خود پروڈکشن کرتا ہے اور کچھ چیزوں میں چین سے ہیلپ لیتا ہے بھارت کی طرح بالی وڈ کی فلموں سے لوگوں کو بے وقوف نہیں بناتا جن کو دیکھ دیکھ کر تم پاگل ہو گئے ہو کہ اصلی ہیرووں کو چھوڑ کے نقلی پتھر پوج رہے ہو وہ ہماری کامیابیوں کا مزاق اڑاتے ہیں اور بے شرموں کی طرح دھڑلے سے اڑاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں پاکستان میں پچھلے دس بارہ سالوں میں بہت سے ایسے دانشور پک کر تیار ہو چکے ہیں جنھوں نے حلال نہ کھانے کی قسم کھائی ہے اور وہ اپنے ملک کا بٹھہ بٹھانے میں دشمنوں سے آگے ہیں جن کو نہ تعلیم سے غرض ہے نہ رزق حلال سے مطلب ہے تو صرف پرائے مال سے ایسے لوگ جو ساری عمر کبھی اپنے صوبے سے باہر نہیں نکلے ہوتے لیکن قطب شمالی سے لے کر قطب جنوبی تک کے سبھی مسائل پر بات کرتے ہیں بلکہ ٹانگ اڑانے کی کوشش کرتے ہیں یہ امر باعث حیرت نہیں باعث شرم ہے اپنے ارد گرد کی خبر رکھو کون کمیکل سے دودھ بنا کر بیچ رہا ہے کس نے اٹھارہ دن میں مرغیاں تیار کر کے قوم کو کینسر میں مبتلا کرنے کا فارمولا اپنا رکھا ہے کون گٹروں کے پانی سے سبزیاں اگا کر منڈی میں لا رہا ہے کون جعلی دوائیاں بنا کر موت کا سامان کر رہا ہے کس نے اسکولوں،کالجوں،یونیورسٹیوں میں منشیات کا زہر پھیلا رکھا ہے کس نے پولیس کو یرغمال بنا رکھا ہے کون ہے جو اس نظام کو بدلنے نہیں دے رہا کس کے اشاروں پر یہ سب ظلم ہو رہے ہیں اور ان کو ہوا بھی نہیں لگتی جن کے لیے جیل بھی جنت بن جاتی ہے۔
اور ہاں تمھارے سوالوں کا جواب یہ ہے کہ پاکستان سب کچھ کر سکتا ہے انڈیا سے لڑ بھی سکتا ہے کلبھوشن کو پھانسی بھی دے سکتا ہے مار بھی سکتا ہے مرنے سے ڈرتا بھی نہیں لیکن فی لحال ایسا کرنا خود کشی کے مترادف ہے کیونکہ عسکری جنگ بھارت سے لڑی جا سکتی ہے اگر بھارت،امریکہ اور اسرائیل اکھٹے مل کر آپ پر چڑھ دوڑیں تو آپ کیا کریں گے؟اور باقی دنیا بھی آپ ہی کو دہشت گرد قرار دے کر آپکو معاشی،اقتصادی،اور دفاعی پابندیوں میں کس کر جکڑ دے گی آپ کے ہاتھ پاؤں بندھ گئے تو آپ کس سے لڑیں گے؟انڈیا کشمیر پر صحیح معنوں میں قابض ہو گیا یہ کام 2015میں ہو چکا تھا بندر بانٹ کا اعلان ہونا باقی تھا جب مجھے کیوں نکالا ہوا اب کانٹے نکلتے نکلتے وقت تو لگے گا سانپ کتنی جلدی ڈس لیتا ہے مگر اس کا زہر قسمت سے ہی نکلتا ہے زندگی دینے والا تو اللہ ہی ہے مگر اپنوں کے دیے زخم بہت تکلیف دیتے ہیں یہ تو آپنے سن ہی لیا ہوگا عالمی بینک کے بعد ایشیا بینک نے بھی یہی رپورٹ دی ہے کہ 2015سے لیکر 2018تک پاکستانی معیشت کو جان بوجھ کر ڈبویا گیا یہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا محض اتفاق نہیں۔۔۔۔بھارت کو اس کا موقع دیا گیا ہم ذرا سا بھی حملہ کریں بھارت تقریبا چالیس ملکوں کی فوج کے ساتھ ہم پر چڑھ دوڑے گا کیونکہ دنیا کے ذرائع ابلاغ پر ان کا قبضہ ہے ابھی پاکستان عسکری محاذ پر فرنٹ فٹ پر نہیں کھیلے گا ابھی ہم offensive نہیں کھیلیں گے ابھی ہمیں defenciveپوزیشن پر رہنا ہوگا کیونکہ ہمارا مقابلہ ایک مکار دشمن سے ہے۔پاکستان کے بہترین دماغوں کے پاس ایک آپشن تھا کہ سفارتکاری اور پراپیگنڈے کے محاذ پر کھل کر کھیلیں انڈیا کا اس جنگ میں ڈٹ کر مقابلہ کریں دنیا میں اس کو ننگا کریں مودی کو فاشسٹ ہٹلر اور مسولینی دوم ثابت کر دیں پوری دنیا کو کشمیر کی صحیح صورتحال بتائیں انڈیا کو لینے کے دینے پڑ جائیں ہر محب الوطن اس کام میں لگا ہوا ہے اور کامیابیاں بھی حاصل کر رہے ہیں کیا نو لاکھ فوج کے ہوتے ہوئے شدید کرفیو میں کشمیر میں جگہ جگہ جنرل غفور کے پوسٹر لگ جانا ایک مذاق ہے؟انڈیا سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہے ہم بھارت سے اس کا دیرینہ دوست روس چھین چکے ہیں امریکی صدر کے دل میں نرم گوشہ پیدا کر چکے ہیں سلامتی کونسل کو پچاس سال بعد اجلاس بلانے پر مجبور کر چکے ہیں یورپی یونین کی پارلیمنٹ تک مسلہ کشمیر لے گئے ہیں اور انڈیا کے خلاف رائے عامہ ہموار کر چکے ہیں اب سفارتی اور پراپیگنڈے کے محاذ پر انڈیا کا بھر پور مقابلہ کر رہے ہیں (شائد اسی لیے انڈیا نے فیس بک کے تیس فی صد حصص خرید لیے ہیں تاکہ وہ جم کر پراپیگنڈہ کر سکے لیکن اللہ وارث ہے ہمارے پاس ضیا شاہد صاحب جیسے محب الوطن قیمتی صحافی موجود ہیں جو ہمیں مایوس نہیں ہونے دیں گے میرے بھائیو اس جنگ کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچ لینے دو یہ جو FATFکی تلوار ہمارے سر پر لٹک رہی ہے اگلے ماہ انشا اللہ یہ ہٹ جانے دیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بھی شائد ایک مہینے تک ہے اس میں ہمارے وزیر اعظم کا خطاب بہت اہمیت کا حامل ہو گا اور رائے عامہ ہموار کرنے میں اس کا بہت بڑا کردار ہوگا کرتار پور راہداری بھی کھلنے دیجیے انشا اللہ ہم بہت جلد اس پوزیشن میں ہونگے کہ دنیا سے اپنی بات منوا سکیں آپنوں سے نہیں لڑا جا سکتا کوشش کریں حالات کو سمجھنے کی اللہ آپ کو توفیق دے بریانی اور قیمے والے نان سے آگے جہان اور بھی ہیں اب جنگیں عسکری محاذ سے زیادہ فکری محاذ پر لڑی جاتی ہیں بد قسمتی سے جو ان کو کوئی جوہر قابل نظر آتا ہے وہ اس کو خرید لیتے ہیں لیکن قوت ایمانی کو شکست نہیں دے سکتے اپنا ایمان مضبوط رکھیے اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو (آمین)۔

(Visited 16 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *