شہ رگ پاکستان ۔۔۔ تحریر : حافظ امیر حمزہ ۔ سانگلہ ہل

مقبوضہ کشمیر جو کہ وطن عزیز “اسلامی جمہوریہ پاکستان” کی شہ رگ ہے یہ ٖٖٖفردوس بریں، دلنشین کشمیر کی گل پوش وادیاں،روئی کے گالوں سے ڈھکی چھپی چٹانیں،ہنستے، مسکراتے، لہلہلاتے مرغزار، مہکتے،چمکتے اوردمکتے ہوئے سبزہ زار،سازبجاتی، گیت گنگناتی ندیاں اوررنگ وسرورمیں نہائے ہوئے نظاروں کی سرزمین دنیاکی یہ جنت آج بھارت کے پنجہ استبداد میں ہے جس کی وجہ سے یہ مقبوضہ وادی کشمیر انسانی خون سے تربترہے، جہاں موت ناچ رہی ہے، ہر طرف آگ ہی آگ ہے ،گولہ بارودکی بو ہر سو پھیلی ہوئی ہے،بموں کے دھوئیں سے ہر طرف گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں،ظلم و ستم کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں اوروہاں معصوم کلیوں،مسکراتی جوانیوں،غمزدہ بڑھاپوں کو موت کی اتھاہ تاریکیوں میں زبردستی دھکیلاجارہاہے۔
آخرایساکیوں ہورہاہے؟ اس وادی رنگ ونور میں موت کاکھیل کیوں کھیلا جارہاہے؟اس جنت نظیر وادی کو بھارت نے لہورنگ میں تبدیل کردیا ہے،ظلم کی زنجیروں میں جکڑدیاہے،مظلوم کشمیریوں کواذیت ناک کراہوں میں تبدیل کردیاہے،ہرطرف سے کشمیریوں پربارود برسایاجارہاہے، جس کی وجہ سے ان کی آنکھیں ضائع کی جارہی ہیں،سینے چھلنی کیے جارہے ہیں اوروہاں کے رہنے والے باشندوں کے گھروں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کیاجارہا ہے،ایساکیوں ہے؟کیااس لیے سب کچھ ہو رہا ہے کہ یہ مظلوم کشمیری بھارتی سامراج سے اپناحق مانگتے ہیں؟آزادی مانگتے ہیں؟اور وطن عزیز پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہوئے اس سے الحاق چاہتے ہیں؟،اس بات میں کسی قسم کاشک وشبہ نہیں ہے کہ کشمیری عوام بھارت کی سامراجی قوتوں کو تہس نہس کرنے اور اپنے مستقبل کو پیارے پاکستان سے وابستہ کرنے کے لیے بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں اور دے رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں کشمیری نوجوانوں کا اپنے حق خودارادیت کے لیے شہادتیں پیش کرنا،بھارتی سامراج قوتوں کے آگے سینہ سپر ہونا،مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا اپنی مساجدکے لاوڈاسپیکرز میں پاکستانی ترانہ لگانااور وہاں چوکوں،چوراہوں میں ملک پاکستان سے والہانہ عقیدت والفت کرتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرانہ یہ سب جذبے،ولولے،الفتیں ،عقیدتیں،صعوبتیں،شہادتیں…… یہ سب کچھ اس بات کاواضح ثبوت ہیں کہ وادی کشمیر کے بہادر، غیور بچے،نوجوان،بوڑھے،جرأت مند،دلیرمائیں اور بہنیں یہ عہد،عزم مصمم کر چکے ہیں کہ جب تک وہ وادی کشمیر کوبھارت کے غاصبانہ قبضے سے چھڑانہیں لیتے ہیں وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
اب کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں،وہ دن دور نہیں کہ کشمیر کے جیالے ،فرزندوں کے سرفروشانہ عزائم کی بدولت پاکستان اور کشمیر کے درمیان حائل ہونے والی تمام دیواریں(ان شاء اللہ)زمین بوس ہوجائیں گی۔یہ بات پوری دنیاجانتی ہے کہ پاکستان کی اور کشمیر کی جغرافیائی نوعیت ایک ہے ۔پاکستان اور کشمیر ایک ہی ثقافتی ڈھانچے کے دو جزو ہیں،وادی کشمیر سے نکلنے والے دریاپاکستان میں سے ہو کر بہتے ہیں۔یہ جغرافیائی رابطہ اور تعلق اس قدر قدرتی ہے کہ اس کو کوئی غیر فطری تقسیم قطعاًختم نہیں کرسکتی۔
اب موجودہ حالات میں کشمیریوں کے صبر کاپیمانہ لبریز ہوچکاہے ،مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی لہر اپنے عروج پر ہے ،وہ بھارتی سامراج کو تنکے کی طرح بہاکر اپنے ساتھ لے جائے گی،کشمیری اپنے حق خودارادی کو پہچان چکے ،ان کے جذبہ ایمان اور شہادت کی قوت دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جارہی ہے اور بھارتی سامراج کاظلم وجبراور تشدد انہیں اپنے حق سے دستبردارکرنے میں کامیاب نہیں ہوسکاہے ،آج پوری دنیاکشمیر کے حالات واحوال دیکھ رہی ہے کہ آزادی کی تحریک اپنے پورے جوبن پر ہے ،کوئی گلی ،کوچہ ایسا نہیں ہوگاکہ جو کشمیر کی آزادی کے فلک شگاف نعروں سے گونج نہ رہا ہو، کشمیر کی مائیں،بہنیں،بیٹیاں تک اس جنگ آزادی میں شریک ہوچکی ہیں۔اب کشمیریوں کی آوازکو مزید دبایانہیں جاسکتا،وہ کسی صورت بھی بھارت سرکار کے پنجہ استبداد میں نہیں رہنا چاہتے، وہ وقت دور نہیں،کہ کشمیری عوام کی زبانوں پر جو نعرہ ہے کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہماراہے،پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ،حقیقی معنوں میں اس کی تکمیل کا وقت اب آن پہنچاہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ کشمیریوں کے حال پر رحم فرمائے اور ان کی آزمائشوں پر اچھا نعم البدل دے انہیں حوصلہ،ہمت اور استقامت نصیب فرمائے ،مسلم امہ میں اتفاق و اتحاد کی فضا کو پیدا کرے اور ان کے دکھ درد کو سمجھتے ہوئے ان کی کوششوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔آمین یارب العالمین ۔

(Visited 18 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *