بکھرے لفظوں کی داستان ۔۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

خدا نے ماں کو بڑی فکرمندی دی ہے یہی وجہ ہے کہ بانو قدسیہ نے لکھا ہے کہ اگر کسی ماں کے آٹھ بیٹے ہوں اور سات جنت میں داخل کر دیے جائیں اور ایک جہنم میں تو ماں جنت میں ہو کر بھی بیقرار رہے گی اور خواہش کرے گی کہ اسے آٹھویں جہنم والے کے پاس بھیج دیا جائے۔ ماں کو اپنی فکر کبھی نہیں ہوتی ہمیشہ اولاد کی فکر کھائے جاتی ہے۔
جب ہم گاوں میں تھے بہت چھوٹے سے اور ٹانگے میں سکول آتے تھے، نئے نئے شہر سکول میں داخل کروائے گئے نرسری میں،ٹانگے والے چاچا صبح بہت جلدی لاتے اور دن کو آخر میں چھوڑتے کیونکہ وہ ہمارے اپنے گاوں کے تھے اب سکول دیر سے لگتا اور چھٹی جلدی ہوتی تو اتنے ٹائم بچ جاتا اور ہماری موج ہوتی اس میں ہم سب بہت کھیلتے اتنا کہ جتنا کھیلا جا سکتا تھا، کیا خوبصورت دن تھے۔ اصل مسئلہ تب ہوتا جب بارش ہوتی یا چاچا نہ آتے، ایک دن یوں ہوا کہ چاچا کو دیر ہوگئی اور ابھی مجھے سکول جاتے ہوئے کوئی ایک دو مہینہ ہی ہوا تھا ایک تو اس دن تھی بھی اکیلی اور دوسرے گاوں کے بچے بھی کم تھے۔ جب چھٹی ہوئی اور مقررہ جگہ پر پہنچی تو وہاں کوئی نہ تھا جب کافی انتظار کے بعد کوئی نظر نہ آیا تو سڑک کنارے پولیس انکل کو دیکھا اورکچھ نہ سوجھی اندر سے تو بہت پریشان کہ کیا کیا جائے تو ان کے پاس چلی گئی اپنے مخصوص منہ بنانے والے انداز میں بتایا کہ میرے ٹانگے والے چاچو لینے نہیں آئے وہ بھی پریشان ہو گئے مجھے کرسی پر بیٹھایا اور کہا کہ کچھ دیر دیکھتے ہیں نہیں تو میں چھوڑ آوں گا۔ اب جب اتنے انتظار پر چاچا نہ ملے تو پولیس انکل نے ایک رکشہ والے کو روکا اور مجھ سے پوچھا گھر کا پتا آتا ہے میں نے کہا جی ہم روزانہ آتے ہیں، تب میں رکشے کو رشکا کہتی تھی۔ پولیس انکل نے اس سے اسکا شناختی کارڈ لے لیا اور کہا جب تک بچی کو صحیح سلامت گھر نہیں چھوڑ کر آتے تمہیں یہ نہیں ملے گا انہوں نے اس رکشے والے کو کرایہ بھی دیا اور کہا کہ گھر والوں سے لکھوا کر لانا کہ بچی صحیح سلامت پہنچ گئی ہے،آج بھی ان انکل کو میری ماما دعائیں دیتی ہیں۔میں رکشے والے کے ساتھ گھر پہنچی جب سب نے دیکھا تو حیران پریشان ہوگئے اور پھر جو روداد سنی کہ پانچ سال لڑکی دھماکہ کر آئی ہے اور چاچا مجھے وہاں ڈھونڈ رہے تھے۔ ماما نے رکشے والا کو کرایہ اور پرچی پر لکھ کر دیا اس شکر ادا کیا اور چلا گیا۔ مجھے جانوروں سے بڑا ڈر لگتا تھا حالانکہ میرے ماما بابا دونوں جانوروں کو پسند کرتے تھے اور انہوں پالتو جانور بھی رکھے تھے مگر ہماری وجہ سے چھوڑ دیا مگر اس کے باوجود میں پورے پنڈ کی سیر پر اکیلی نکل جاتی تھی اندر اندر ڈرتی رہتی اور ساتھ ساتھ خود کو تسلی دیتی رہتی تھوڑا اور بس پھر گھر جانا۔ ہمارے انہی کارناموں کی وجہ سے ماما اکثر پریشان ہوجاتی تھی مگر وہی تھی جو حوصلہ دیتی اور ہمت دیتی تھی آگے بڑھنے کا خطروں سے لڑنے کا۔
باقی تو سب فٹ فاٹ تھا مگر بارش کے دونوں میں سپیشل ماما دادا سے گاڑی نکلواتی تب گاڑی صرف سپیشل موقعوں پر یا خواتین کے آنے جانے پر ہی نکلتی تھی اور ہمیں لینے پہنچ جاتی پھر شہر کی سڑکیں ماشائاللہ تب بھی ایسی ہی تھیں پانی سے لبالب بھر جاتی اور ماما اس سے گزر کر بھیگتی ہوئی ہمیں سکول کے اندر سے اتنے رش میں باہر لاتی۔ ہمارا سکول شہر کا سب بڑا سکول ہونے کی وجہ سے طالبعلموں سے کچاکچ بھرا ہوتا تھا وہاں کسی کو ڈھونڈنا ہی بڑی بات ہوتی۔ پھر گاڑی میں آ کر ہماری جرابیں اتارتی، تولیے سے پاوں اور سر خشک کرتی اور خود بھیگی رہتی۔ ہمیں بخار ہو جاتا تو دن رات ایک کر دیتی اور خود کو کچھ ہوتا تو کسی کو کان و کان خبر نہ ہوتی آج بھی تو یہی کرتی ہیں۔ بڑی دادی(دادا کی اماں جی) دیکھتی تو کہتی کیوں اتنے جتن کرتی ہے کسی قریب کے سکول میں داخل کروا دے پڑھانا ہی ہے پر ماما کہاں سننے والی تھی اسے تو اپنی بیٹی کو اچھے سکول میں اچھی تعلیم دلانی تھی پھر یہ سب بھی دیکھنا ہی پڑنا تھا۔ تب ہم امی جی، ابو جی کہتے تھے پھر شہر آئے تھوڑے بڑے ہوئے تو ماما بابا زیادہ اچھا لگا پھر امی ابو ماما بابا ہوئے اور ہم ماڈرن ہوئے، وقت بہت تیزی سے ہماری آنکھوں کے سامنے بدلا، ہم خود اتنے بدل گئے ہیں،سوچ بدل گئی ہے انداز بدل گئے ہیں۔
ماں ماں ہوتی ہے بچے کے دکھ سے ماری جاتی ہے ساتھ روتی ہے پر اف نہیں کہتی چپ چاپ آنسو پونچھتی رہتی ہے پر باپ میں اتنا حوصلہ نہیں ہوتا کہ اولاد کا دکھ دیکھ سکے۔ بابا شہر میں کام کرتے تھے اور اکثر شہر سے باہر ہی آنا جانا رہتا گاوں ہفتوں بعد ہی آتے تھے۔ ایک دن دادا گھر نہیں تھے تو ماما نے بابا کو فون کیا کہ سکول سے لانا ہے بارش ہے اور چاچا نہیں لینے گئے۔ بابا گاڑی میں لینے پہنچ گئے مگر آگے گئے تو دیکھتے ہیں سکول والی سڑک پانی سے بھری پڑی اور وہاں گاڑی کی اجازت نہیں تھی اتر کر پانی سے گزر کر ہمیں سکول سے لائے، اٹھائے رکھا کہ پاوں گیلے نہ ہو جائیں مگر انہیں کیا پتا تھا اندر بھی پانی تھا، آفس لے آئے۔ ہمارے گیلے کپڑے اور گیلی جرابیں دیکھی تو رونے لگ گئے، ایک دفعہ تب اور پھر جب کھیلتے ہوئے میرا بازو ٹوٹا تھا تب موبائل سے ناتا کم تھا تب کھیلا ہی کرتے تھے۔ خیر جب ڈاکٹر کے پاس گئے اور وہ جوڑنے کی خاطر بازو سیدھا کرنے لگے تو میرا رونا تو بنتا تھا پر بابا بھی رونے لگ گئے جیسے ان کی جان ہی نکل گئی ہو اب ڈاکٹر مجھے چھوڑ کر انہیں پانی پلانے لگ گئے اور کہا اسکی ماں کو بھیجیں آپ جائیں باہر بیٹھیں سب نے سنا تو ہنسنے لگے۔ مگر سچ یہ ہے کہ باپ سے کبھی بھی بیٹی کو دکھی نہیں دیکھا جاتا ہے وہ دیکھ ہی نہیں سکتا۔ ماں پھر حوصلہ کر لیتی پر باپ سے نہیں ہوتا وہ ٹوٹ جاتا ہے بیٹی کی ذرا سی تکلیف پر مجھے بابا سے کبھی ڈانٹ نہیں پڑی مگر جب ان سے ضد اور بحث کرتی تو آنسو خودبخود آ جاتے آنکھوں میں اور اب میری شامت آ گئی ایک یہی چیز جو باپ دیکھ نہیں سکتا آنسو۔ ہمیں کھا پلا کر گھر لے گئے ماما کہتی ہیں کہ اس دن تمہارے بابا نے کہا تھا اب مجھے اپنا گھر شہر میں بنانا ہے وہاں میرے پاس ہونگے میرے بچے تو میں وقت پر پہنچ تو جاوں گا۔ ماں کو اولاد کے پیدا ہوتے ہی اپنے گھر کی فکر ستانے لگ جاتی ہے پہلے ماما کہتی تو وہ کہتے میں نے گاوں چھوڑ کر نہیں جانا اپنے آبائی گھر ہی رہنا مگر اب اولاد کے لیے فیصلہ تبدیل کرنا پڑا پھر تو یہاں اپنے گھر سے ہم بدل ہی چلے جاتے تھے سکول۔
اب گھر بنانا کہاں آسان کام تھا،ماں دعا کرتی کہ کوئی وسیلہ بن جائے ماں کا یہی تو کام ہوتا کچھ بھی ہو مصلہ تھام کر بیٹھ جاتی ہے رب کے حضور منتیں کرتی ہے – بابا کہتے تھے پتر ماں کو ناراض نہ کرنا ماں کا رب کا گہرا ناتا ہوتا رب ماں کی جلدی سنتا ماں کو رب سے بات منوانے کا وسیلہ ۔ سب ہنستے کہ کہاں گھر بننا وہ کہتے شہر دو کمرے ہی کر لو تو بڑی پر وہ ہمت نہ ہارے اور اللہ کی کرنی ہوئی کہ انہیں ایک نئے علاقے ہمارے سکول کے قریب میں جگہ مل گئی اور اللہ نے ہمت کر کے گھر بھی اچھا بنا دیا اور ہم شہری ہوگئے ابھی ہم دوسری تیسری میں تھے۔ اب لان کا مدعا آیا تو بابا نے بڑے فینسی اور شو دار پھولوں خوشبو والے پودے لگائے پر ہماری ماما تھی انہوں نے یہ سب ایک سال بمشکل رہنے دیا اور آہستہ آہستہ انہیں پھل دار پودوں میں بدلتی رہیں ہم ناراض ہوتے خوبصورتی خراب ہو رہی اور وہ کہتی کام وہ کرنا چاہیے جس سے آپ اور کسی کو فائدہ ہو وگرنہ کیا فائدہ کرنے کا، اب گیارہ بارہ سال بعد ہر موسم میں کسی نہ کسی پودے پر اللہ کی مہربانی سے کچھ نہ کچھ لگتا رہتا ہے۔ ہمارا گھر جو کہ دو محلوں سے جوڑا ہوا ہے تو اب دونوں محلوں میں ہر گھر میں دونوں موسم میں کچھ نہ کچھ ضرور جاتا ہے حتی کہ ہم سے زیادہ وہ عادی ہو گئے اور انتظار کرتے کہ کب آنٹی کچھ بجھوائیں گی اور ہم ناک منہ ہی چڑاتے رہ جاتے۔ شہروں میں عموما لوگ اپنے کام سے کام رکھتے جو کہ مجھے تو بہت اچھا لگتا کوئی کسی کی زندگی میں دخل نہیں دیتا مگر اس کے علاوہ بھی تو تعلق برقرار رکھا جاسکتا جس کا میری ماما نے آتے ہی آغاز کیا وہ یہ ہر تقریب اور موقع پر وہ کچھ اچھا بناتی اور ساری گلی میں بجھواتی اور اب یہ ہمارے محلے کا رواج بن گیا ہے جو ہمیں جوڑے رکھتا ہے۔
جب بھی کسی گھر کچھ جاتا وہ بہت خوش ہو جاتی ہیں اور ہمیں کہتی کہ شکر ادا کیا کرو کہ اللہ نے اس قابل بنایا ہے، اس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ ہم اکثر یونہی نظر انداز کر دیتے ہیں مگر اگر سوچا جائے تو یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہمیں زندگی میں بہت کچھ سکھاتی ہیں اور ہماری تربیت کرتی ہیں بس غور کرنے کی دیر ہے۔ اجنی مسافر کی ڈائری سے اقتباس ۔

(Visited 4 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *