طے شدہ و پسند کی شادی ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

شادی وہ موضوع ہے کہ جس پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ شادی بلاشبہ ضروری ہے۔ اگر شادی نہ ہو تو دنیا کا نظام وانصرام تو متاثر ہو گا ہی ساتھ ساتھ جنت کی قدر بھی معلوم نہیں ہو گی۔ ڈرامے، ناول اور فلمیں چاہے جاسوسی ہوں ‘ ایکشن ہو یا پھر تاریخی ان میں شادی لازمی جزو ہے۔ اگر یہی ناول ڈرامے اور فلمیں رومانی ہوں توپھر تو سونیپر سہاگہ۔ انجام شادی پر ہی ہو گا۔ رومانی ناولوں اور ڈراموں کا بنیادی جزو ہی شادی ہے جبکہ دیگر کا لازمی جزو کہہ لیں۔ ہمارے کچھ دوست کہیں گے کہ آج کل تو معاشرتی موضوع بھی عام ہیں جیسے حلالہ و طلاق وغیرہ تو اس ان کی بھی بنیادی وجہ شادی ہی ہے۔
ہمارے ہاں شادی کے دو مروج طریقے ہیں۔ طے شدہ شادی و پسند کی شادی۔ دونوں میں فرق اتنا ہی ہے جتنا خودکشی کرنے اور قتل ہونے میں ہے۔پسند کی شادی میں لڑکی لڑکے کا ملن ہوتا ہے تو طے شدہ شادی دو خاندانوں کا ملاپ کہلاتا ہے۔ طے شدہ شادی میں والدین و رشتہ داروں کی پسند پر لڑکی لڑکا قربان ہوتے ہیں تو پسند کی شادی میں وہ رشتے داروں کی خواہشات کے قاتل قرار دئیے جاتے ہیں۔تاہم طے شدہ شادی کی بہترین تعریف ہمارے ایک دوست نے کی ہے جس کا فرمانا ہے کہ بھائی جان سے جان تک کا سفر طے شدہ شادی کہلاتا ہے۔
دونوں طریقہ کار میں انجام میں کوئی فرق نہیں۔ بچے ّ دونوں صورتوں میں ہو جاتے ہیں۔ زوج/زوجہ شادی کے کچھ عرصے بعد ایک دوسرے سے تعلقات پاک بھارت جیسے ہو جاتے ہیں۔ اور شادی سے پہلے جو سڈول ہوتے ہیں کچھ ہی عرصے بعد ابو الہول ہو جاتے ہیں۔
اس کے مقابل طریقوں میں تفریق بہت زیادہ ہے۔شادی شدہ جوڑوں کی خواہش تو پسند کی شادی کی ہوتی ہے مگر دل کے ارماں اکثر آنسووں میں بہہ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں طے شدہ شادی میں بارات اور ولیمہ ہی وہ یوم ہوتے ہیں جب ساس اور نندیں دلہن کی بلائیں لیتی ہیں۔ بعد میں تو اپنی بلائیں بھی اس کو دے دیتی ہیں۔
مزید براں طے شدہ شادی بہت مہنگی ہوتی ہے۔پہلے لڑکی لڑکے کے کپڑے، زیورات ودیگر ضررویات زندگی پر لاکھوں کا خرچ ہوتا ہے دونوں اطراف سے۔ بارات ولیمہ تو ضروری ہیں ہی۔ وہ کتنے مہنگے ہیں یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اس کے علاوہ بھی دسیوں فضول رسمیں طے مثلاً مہندی، دودھ پلائی اور جوتا چھپائی وغیرہ طے شدہ شادی میں فرض کی حیثیت رکھتی ہیں۔ طے شدہ شادیوں پر ہونے والے اخراجات کے نتیجے میں اکثر لوگ تو مقروض بھی ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس پسند کی شادی میں خرچہ بمشکل چند ہزار ہوتا ہے۔ وہ بھی اسٹام پیپر اور گواہوں کا خرچ یا قریب موجود لوگوں کو مٹھائی کھلا دینا۔ شادی سے پہلے ہی کفایت شعاری کی عادت کو بُرا ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔
طے شدہ شادی کرنے کے مہینہ بھر بعد بھی رشتہ دار اور محلے دار نئے جوڑے کی دعوتیں کرتے پائے گئے ہیں۔جبکہ پسند کی شادی کرنے والے اپنے رشتہ داروں سے خود کو ایسے چھپاتے ہیں جیسے ہمارے سیاستدان اپنی دولت حکومت سے چھپاتے ہیں۔طے شدہ شادی میں میاں بیوی ایک دوسرے میں دوست کوکھوجتے ہیں تو پسند کی شادی میں دوستوں میں میاں بیوی کی تلاش کی جاتی ہے۔
پسند کی شادی میں اپنی پسند کے بندے/بندی سے شادی ہوتی ہے۔ اور میاں بیوی خود ہی لڑ جھگڑ کرصلح کر لیتے ہیں ورنہ ادھر ہم اُدھر تم والا معاملہ ہوتا ہے۔اس کے برعکس طے شدہ شادی میں اگر میاں بیوی خود سے نہ لڑیں تو ان کے درمیان لڑائی کرانے کا فریضہ رشتہ دار سرانجام دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ لڑائی سے محبت بڑھتی ہے۔پہلے لڑائی کی آگ بھڑکائی جاتی ہے۔ بعد ازاں جب لڑائی شدت اختیار کر لے تو پھر اس پر پانی ڈالنے کا کام کیا جاتا ہے۔ میاں بیوی کو اپنی عزت کا واسطہ دے کر راضی کیا جاتا ہے۔پھرجب ان میں پیار پیدا ہونے لگتا ہے تو پھر یہ ساری کارروائی دہرائی جاتی ہے تاوقتی کہ میاں بیوی ‘روز جیتا ہوں روزمرتا ہوں ‘ کی عملی تصویر نہ بن جائیں اور اولاد جوان نہ ہو جائے۔ پھر یہ سارا چکر اگلی نسل کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔

شادی پسند کی ہو یا طے شدہ دونوں ہی نوکری کی مانند ہیں۔ دونوں میں آپ کو معاہدے کرنے پڑتے ہیں۔ تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کی ہر نوکری میں تجربہ ضروری ہوتا ہے اور ناتجربہ کاروں کو کوئی پوچھتا ہی نہیں اس کے برعکس شادی دنیا کی واحد نوکری ہے جس میں ناتجربہ کار کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تجربہ جتنا کم ہو گا شادی کے امکانات اتنے ہی بڑھتے جائیں گے۔ ہم وہ قوم ہیں کہ ملک تک ناتجربہ کاروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔اولاد دینا تو کسی زمرے میں ہی نہیں آتا۔ ملک کے ساتھ حکمران بھی ایسا ہی کرتے ہیں جیسے ناسمجھ اور جذباتی جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔ یعنی مسائل بھی بڑھتے رہتے ہیں اور آبادی بھی۔ مزید براں حکمران اور شادی شدہ دونوں اپنے اپنے مقام پر ڈٹے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں صورتوں میں مخالف فریق کو رگڑا لگانے کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔
کہتے ہیں کہ شادی کے بعد میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے کی مانند ہوتے ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہوتا ہو مگر مسئلہ یہ ہے کہ گاڑی کے تو چار پہیے ہوتے ہیں۔ دو پہیے تو سائیکل یا موٹر سائیکل کے ہوتے ہیں۔ ان میں بھی اگلا پہیہ پچھلے پہیے کو ساتھ ساتھ گھسیٹتا رہتا ہے جیسے بے جوڑ شادیوں میں ایک فریق دوسرے فریق سے بناہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اگر گاڑی کے پہیے مراد لیں تو بقیہ دو پہیوں سے مراد شاید بچے ّہوں گے مگر اس صورت میں توگاڑی اکثر درجن پہیوں والا ٹرک بن جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(Visited 4 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *