کرکٹ کی فضا، سیاست کی وبا ۔۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

جیسا کہ ورلڈ کپ کا دور دورہ ہے اور ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے ہر ملک کی طرح ہم بھی چاہتے ہیں کہ ورلڈ کپ ہمارے ملک میں آئے۔ جہاں پہلے تو ہماری ٹیم نے ماشائاللہ سے ایسی کارکردگی دکھائی کہ یہ خواہش کہیں دم توڑ چکی تھی اور پھر اچانک ہماری ٹیم کو خیال آتا ہے کہ ہم بھی کھیلنے کیلیے آئے ہیں۔ انڈیا سے ہارنا ٹیم کو بہت مہنگا پڑا، پرائے تو پرائے اپنوں نے ہی نہیں چھوڑا اگر ٹیم کم بیک نہ کرتی تو اس قوم نے کوئی انڈا ٹماٹر نہیں چھوڑنا تھا ٹیم کے استقبال کیلئے۔اور پھر ساوتھ افریقہ کے ساتھ میچ کو پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جس طرح جیتا اسے دیکھ کر اپنے کیا پرایوں کی آنکھیں بھی نم ہوئے بغیر نہ رہ سکیں خوشی سے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم بھی کسی معجزے سے کم نہیں جو کسی وقت بھی حیران کر سکتی ہے یہ شاید وہ واحد ٹیم ہے جو کسی چھوٹی سے چھوٹی ٹیم سے بھی ہار سکتی ہے اور بڑی سے بڑی ٹیم کو بھی ہارا سکتی ہے اس لئے اس کے متعلق وقت سے پہلے کچھ بھی گمان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پھر نیوزی لینڈ جسے ہم سے پہلے کوئی شکست نہیں دے پایا ہم نے اتنے برے طریقے سے ہرایا کہ دنیا حیران رہ گئی کہ یہ وہی ٹیم ہے۔ پھر پاکستانیوں نے انگلینڈ کو جو پاکستان کے رنگوں میں رنگا ہے گورے بھی حیران پریشان ہیں کہ یہ پاکستانی کیا چیز ہیں۔ ادھر یہ قوم ہار پر اپنی ہی ٹیم کی مٹی پلید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی حتی کہ دوسروں کے حصے کی بھی خود ہی پلید کر دیتے ہیں اور دوسری جانب جیت پر وہی قوم سیکنڈ میں سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے قربان جاتی ہے کہ بس ہی کر دیں۔ افغانستان کے ساتھ میچ بہت دلچسپ اور دیکھنے والا تھا جہاں افغان نے یہ میچ ایسے کھیلا جیسے ورلڈ کپ اسی دن لے کر ہی جائیں گے وہاں پاکستان کی بیٹنگ بھی جھٹکوں سے بھرپور تھی جہاں دیکھنے والوں کو کئی بار ہارٹ اٹیک آئے کہ اب گئے اب گئے مگر پھر جیت ہی گئے۔ ایسی ہی ہے ہماری ٹیم پرفارم کرنے پر آئے تو ٹوٹے ہاتھ سے بھی میچ جتا دے، اللہ ایسی ٹیم کو کسی کی نظر نہ لگائے دعائیں بھی تو بہت ضروری ہیں نہ اگر یہ کہہ لیا جائے کہ دعائیں ہی تو ہم کو چلاتی ہیں تو کچھ غلط نہ ہوگا۔
اس وقت ملک میں عجیب صورتحال ہے جہاں ہم دعا کررہے ہیں کہ پاکستان اگلا میچ جیتے وہیں یہ بھی دعائیں کرنی پڑ رہی ہیں کہ فلاں ہارے اور فلاں جیتے یہاں تک کہ انگلینڈ اور انڈیا کے میچ میں پورا پاکستان پورا بنگلہ دیش حتی کہ سری لنکا بھی چاہتا تھا کہ انڈیا میچ جیتے بس ایک انڈیا تھا جو چاہتا تھا کہ انگلینڈ یہ میچ جیتے اس دن تو ہمارے لوگوں نے اپنے گیت تک بھی انڈیا کے نام کر دیے مگر میچ کے بعد حالات معمول کے مطابق ہوگئے اور وہ تمام دعائیں جو صبح سے مائیں بہنیں مانگ رہی تھی وہ دوبارہ بددعاوں میں تبدیل ہوگئیں۔ مذاق چھوڑیں سچ میں اتنا حساب کتاب طالب علم امتحان کے لئے اور سیاست دان ملک کیلیے کرتے تو کہاں کہ کہاں پہنچے ہوتے جتنا ورلڈ کپ کیلیے کرنا پڑ رہا ہے فلاں جیت جائے، فلاں ہار جائے اور ہم جیت جائیں۔ اللہ ہی اب رحم کرے پوری قوم دعائیں کر رہی ہے کہ اللہ معجزے دکھائے اور ٹیم سرفراز شاندار کارکردگی دکھائے اور ہم ورلڈ کپ دیکھ سکیں۔
جہاں کرکٹ کی فضا ماحول کو گرما رہی ہے وہیں سیاست کی وبا بھی پیش پیش ہے۔ سیاست کا مقصد اب صرف خاندان بچانا رہ گیا ہے اور یہ کھیل گیم آف تھرون سے زیادہ دلچسپ اور مزے دار ہے جہاں کسی کو اپنی کرسی بچانی ہے،کسی کو اپنا خاندان اور کسی کو صرف آگ لگا کر تماشہ دیکھنا ہے، انٹرٹینمنٹ اور انٹرٹینمنٹ۔ پارلیمنٹ اب عوام کے مسائل حل کرنے کی جگہ نہیں رہی بلکے سیاسی اکھاڑا بن چکی ہے جہاں آئے دن سیاسی دنگل لڑا جاتا ہے اور جو جتنی فضول زبان کا استعمال کرے گا وہ اتنے ہی مارجن سے یہ دنگل جیتے گا۔ بھاڑ میں جائے عوام، یہ اتنے سالوں سے رل رہی ہے آگے بھی رلتی رہے سیاست دانوں کو کیا، انہوں نے ووٹ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے نہیں لیے۔ اگر وہ عوام کے مسائل حل کریں گے تو ان کے اپنے مسائل کون حل کرے گا، انکے بنک بیلنس کون بنائے گا اور پارٹیاں کون بچائے گا۔ سیاست دانوں کی گیم آف تھرون ہے کہ ختم نہیں ہو پا رہی اور ادھر مہنگائی سے عوام کا شوربہ بن رہا ہے بنیادی ضروریات زندگی تک ہوا ہوگئی ہیں ہر چیز آسمان کو چھو رہی ہے۔ حکومت کو فرصت نہیں اپوزیشن کو اپنا رونا عوام جائے بھاڑ میں، اوپر سے اے پی سی کا قیام جس کا کوئی مقصد ابھی تک تو دکھائی دے نہیں رہا سوائے اس کے کہ خاندان بچانا ہے اور اقتدار۔ اپوزیشن کو اس وقت جو عوام کا درد ستا رہا ہے وہ درد دراصل اقتدار اور خاندان کا درد ہے، پتا نہیں سیاست دانوں کو عوام کے سارے درد اپوزیشن میں ہی کیوں ہوتے ہیں حکومت میں یہ درد کہاں غائب ہو جاتا ہے۔ عمران خان کو بھی سوچنا ہو گا یہ درست ہے کہ حالات مشکلات کا شکار ہیں اور ایسے میں سب کو ہمت سے کام لینا ہے مگر انہیں بھی عوام پر اتنا ہی بوجھ ڈالنا چاہیے جس کی وہ تاب لا سکیں یہ نہ ہو کہ عوام کی بس ہو جائے اور حالات مزید بگڑ جائیں۔

(Visited 6 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *