امام حسینؓ اور ہم ۔۔۔ تحریر : حافظ امیرحمزہ سانگلہ ہل

رب العزت نے جب سے اسلامی مہینوں کا آغاز فرمایا ہے اسی وقت سے چار مہینے حرمت والے بنائے ہیں اور وہ ذوالقعدہ،ذوالحجہ،محرم اور رجب ہیں ان میں سے ماہ محرم الحرام جو کہ رواں دواں ہے اس مہینے میں خلفائے راشدین کے لاڈلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تمام اہل ایمان کے دلوں کی دھڑکن، جنتی نوجوانوں کے سردار، پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے نواسے سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو 10محرم الحرام کو کربلا کے میدان میں بے دردی سے شہید کیا گیا۔(اناللہ وانا الیہ راجعون)۔
اے کربلا کی خاک تو اس احسان کو نہ بھول
تڑپی ہے تجھ پر لاش جگر گوشہ بتول
مظلوم کے لہو سے تیری پیاس بجھ گئی
سیراب کر گیا تجھے خون رگ رسول
وہ مظلوم نواسہ رسول کہ جس کے بارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی الله عليه وسلم نے اپنی نبوت والی زبان سے سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شان، عظمت اور مقام بیان کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا:”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں “آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے انتہاء درجے کی والہانہ محبت نمایاں ہو رہی ہے۔
جلیل القدر صحابی رسولۖ سیدنا حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه بیان کرتے ہیں “میں نے رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کو دیکھا آپ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے فرما رہے تھے:اے اللہ! میں حسین سے محبت کرتا ہوں، پس تو بھی اس سے محبت فرما “۔
اس سے بھی بڑھ کر مسند ابی یعلی میں صحیح حدیث میں سیدنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں میں نے رسول پاک صلی الله عليه وسلم سے سنا فرما رہے تھے:”جسے پسند لگے یہ بات کہ وہ اہل جنت میں سے ایک آدمی کو دیکھے تو وہ حسین بن علی رضی اللہ عنھما کو دیکھ لے”۔
سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہیں کہ وہ اہل بیت میں سے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ مزید ان خوش نصیبوں میں بھی شامل ہیں کہ جنہیں اللہ رب العزت نے اس دنیا کی زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے رکھی ہے اس سے بڑھ کر پیارے حسین رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ رب رحمان دنیا میں ہی جنت کا سرٹیفکیٹ دے رہے ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کرنے والا یا آپ رضی اللہ عنہ کے متعلق توہین زدہ جذبات رکھنے والا یا ان سے بغض وعناد رکھنے والا ایسا انسان بدبخت اور رب العزت کی لعنت کا مستحق ہے اور ایسا ذہن رکھنے والا مرد ہو یا عورت اس کی وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہو گا۔جیسا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پیارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو کوئی بھی ہم اہل بیت سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے گا “۔
اب ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہوئے ان کے نقشے قدم پر چلیں کیونکہ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا “جس نے حسنین کریمین رضی اللہ عنھما سے محبت کی گویا اس نے میں محمد صلی الله عليه وسلم سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا گویا اس نے مجھ سے بغض رکھا”۔اب محبت کا معیار وہی ہو گا جس میں غلو نہ ہو بلکہ ان کا مرتبہ وہی رکھا جائے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا ہے،ان سے عقیدت میں آ کر اپنا عقیدہ برباد کر کے اپنی آخرت کو خراب نہ کیا جائے بلکہ ان جیسا عقیدہ اپنائیں، ان جیسی نماز پڑھیں، ان جیسا صبر و ہمت کا مظاہرہ کر کے ان سے حقیقی محبت کا عملی ثبوت پیش کریں۔

(Visited 7 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *