بس ایک چیخ ۔ افسانہ ۔۔۔ تحریر : تابندہ جبیں

انسان کیا سوچ رہا ہے اس بات کو اس کے سوا بس خالق خدا ہی جان سکتا ہے۔یا پھر کوئی ایسا شخص جو اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔وہ اس کے ایک اشارے سے اندازہ لگا لیتا کے گویا سامنے والا شخص کیا چاہ رہا ہےاسرا نے یہ سری باتیں انزالہ سے کہی۔۔۔۔ہم لڑکیوں کی کتنی ہی خواہش ہوتی ہے جو دل میں ہی رہ جاتی ہے ہم لڑکیاں دل ہی دل میں دبا لیتی ہے اپنی ہر خوشی کتنے نشیب و فراز سے گذرتی ہے زندگی ۔۔۔کبھی کبھی ہم اس کلی کے مانند ہوجاتی ہے جو کھلی ابھی ہے مگر سرد ہو سے ٹھٹھر جاتی ہے انزالہ تم جانتی ہو میں نے زندگی میں کوئی خواہش نہیں کی تھی میرے والدین میرے بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے یہ یوں کہوں کے وہ اپنی اصل زندگی میں چلے گئے تھے ۔۔۔مجھے ان کی شکل بھی یاد نہیں ہے میرے ارد گرد بس ایک دھن سا چھایا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ ایک روڈ یکسدنت تھا امی ابو کی آٹھویں شادی کی سالگرہ تھی ہم بہت خوش تھے۔۔۔ہم واپس لونگ ڈائیف سے آرہے تھے کے ہماری گاڑی کا ٹکر ایک بس کے ساتھ ہوااور میں گم سم سی بیتھی رہ گئی ۔۔۔میری نگاہ میری ماں کی طرف تھی اور ان کی آنکھیں میری طرف ان کی بند آنکھیں بھی مجھے ایسی محسوس ہورہی تھی جیسے کہ وہ مجھے کچھ کہنا چاہ رہی تھی میرا دل کیسی بے چین پرندے کی مانند ٹرپ رہا تھاکچھ سمجھ نہیں آرہا تھا آخر یہ ہوکیا گیا ہے دن گذر گئی مگر میرے ذہن میں یہ بات پختہ ہوگئی ۔۔میرے ذہن ایک قفس میں قید ہوگیا ۔۔۔اکثر و بیشتر وہ منظر میرے ذہن کے سامنے آنے لگتا ہے۔۔میں رات سوتے میں ڈرتی ہو میرے خواب ادھورے رہ جاتے ہے۔مجھے اپنا وجود ادھورا لگنے لکتا ہے ۔۔۔میرے چچا بہت اچھے ہے انھوں نے مجھے اعلی تعلیم دلوائی میں دن رات اپنے چچا لے لئے دعائیں کرتی ہو ۔۔۔ہاں چاچی کی محبت میں پیار نہیں جھلکتا مگر مجھے اپنے باپ جیسے چچا میں باپ نظر آتا ہے ۔۔۔

چڑتے سورج کی طرح میرے چچا ہے۔۔۔مگر یار دل میں ایک خلش تو رہ گئی ہے کے اس دن میں نے اپنے آنسو اپنے آنکھوں سے باہر نکال دیا ہوتا کاش میں نے زور زور سے چیخ ماڑا ہوتا اپنے ارد گرد لوگوں کو جمع کر لیا ہوتا۔۔تو میں اس قدر دری ڈری سہمی نہ ہوتی وہ واقعہ وہ حادثہ میں دماغ میں عکس کر گیا ہے میرے وجود میں گر کرگیا ہے۔۔۔۔۔

(Visited 29 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *