انصاف یا مک مکا سانحہ ساہیوال ۔۔۔ تحریر : محمد محی الدین باہو ۔ پیرمحل

سانحہ ساہیوال،، کا عدالتی فیصلہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے جیسا ہی ہوا ہے یا پھر انصاف ہوا ہے سانحہ ساہیوال مقدمہ میں عدالت نے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے رہا کر دیا ہے جب ریاست پاکستان کے نامور ادارے ہمارے امن اور تحفظ کے سپہ سالاروں نے سانحہ ساہیوال برپا کیا تو اس نتیجے میں تین کمسن بچوں کے سامنے انکے والدین کا بہیمانہ قتل کیا گیا،سانحہ ساہیوال نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی یاد تازہ کر دی تھی کہ جب 17 جون 2014 کو پنجاب کے دل لاہور کی سرزمین پر ریاستی اداروں کی جانب سے بدترین ریاستی دہشتگردی دیکھنے کو ملی۔مذہبِ اسلام سے منسلک ہونے کے ناطے یقین سے کہتا ہوں کہ ہمارا دین یہود اور کافروں سے بھی ایسی سفاکیت کی اجازت نہیں دیتا جو کچھ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بااثر لوگ کرگذرتے ہیں،کربلائی منظر پیش کرتا وہ 17 جون کا دن آج بھی لہو لہان ہے دن دیہاڑے سورج کی روشنی میں پرامن احتجاج کرنے والے منہاج القرآن کے طالبِ علموں پر ظلم وستم اور سفاکیت کی انتہا کر دی گئی۔ریاستی اداروں نے اپنے ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کمسن بچوں،ماں،بہنوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 14 لوگ شہید ہوئے۔17 جون کو ایسی سفاکیت دیکھنے کو ملی جس کی توقع ریاست پاکستان کے قانون اشرافیہ اور مافیا ہی سے کی جا سکتی ہے۔جن خواتین کے دل میں قرآن محفوظ تھا جو خواتین حاملہ تھیں یا پھر کمسن بچے تھے یزید اور شمر کی باقیات نے بلاجھجک فائرنگ کرتے ہوئے حاملہ خواتین کے منہ اور پیٹ پر گولیاں برسائیں، بزرگوں پر ڈنڈوں لاتوں اور آنسو گیس کی بارش کی گئی، ننھے بچوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے والدین کو محافظ ریاستی اداروں کی بھینٹ چڑھتے دیکھا چند ہی لمحوں میں ماڈل ٹاؤن کربلا کا منظر پیش کرنے لگا لہو لہان سڑکیں بھی ایسی انسانیت کو دیکھ کر اپنے بے جان ہونے پر فخر محسوس کر رہی تھیں منہاج القرآن پاکستان میں بڑے تعلیمی اداروں میں اپنا شمار رکھتا ہے جہاں نوجوان نسل اسلام کی تعلیمات اس نئے دور میں بھی حاصل کرتے ہیں۔منہاج القرآن کوئی کالعدم تنظیم یا دہشتگرد تنظیم ہرگز نہیں تھی بلکہ ایک ذمہ دار ادارہ ہے لیکن یہاں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو پرامن احتجاج کرنے کی سزا دی گئی اور سرعام لاشیں گرائی گئیں تاکہ کوئی بھی سرکار کو آنکھیں نہ دکھا سکے اور بادشاہ کی بادشاہی میں خلل نہ پڑے۔سانحہ ماڈل ٹاؤن برپا ہونے کے بعد پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا اور پھر سوشل میڈیا پر تجزیے شروع ہوئے ہر کوئی حسینی ہونے کے ناطے اس ظلم و ستم کیخلاف سراپائے احتجاج ہوا روایتی تحقیقات کا آغاز ہوا جوشیلی تقاریر،مذمت،متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی اور پھر لاکھوں روپوں کی مدد کا اعلان متاثرین انصاف لینے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان جا پہنچے تحقیقات کرنے کیلئے جے آئی ٹی بنی لیکن نتیجہ صفر ایک اور جے آئی ٹی بنائی گئی لیکن نتیجہ پھر صفر لارجر بینچوں کا قیام،کیا کچھ نہیں کیا لیکن ریاستی غنڈوں کو بچانے کیلئے انکے آقا بھی میدان میں تھے آج پانچ سال ہونے کو ہیں نتیجہ صفر سانحہ ساہیوال کا واقعہ بھی اسی نوعیت کا ہے کمسن بچوں کے سامنے انکے والدین کو گولیاں مار کر چھلنی کر دیا گیا وزیراعظم پاکستان عمران خان دورہ قطر پر گئے ہوئے تھے کہ سانحہ ساہیوال برپا ہوگیاوزیراعظم پاکستان عمران خان نے عام عوام کے بھرپور احتجاج پر ایک ٹویٹ کیا تھا اور فرمایا تھا کہ دورے سے واپسی کے فورا بعد اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات اور پنجاب پولیس کے ڈھانچے کا جائزہ لوں گا اور اسکی صلاح کا آغاز کروں گا کیس ہمیشہ کی طرح ناقص تفتیش اور باریک بینی کی نظر ہوا اور مہینوں چلنے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ تمام تر ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے رہا کیا جاتا ہے میں یونہی اپنی ہمدردیاں نہیں لٹا دینی چاہیے سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونے ہونے والے خلیل کے بھائی جلیل سانحہ ساہیوال کیس کے مدعی تھے اور اس کیس میں تقریبا 54 گواہان تھے عدالتی نظام شہادت اور ثبوت کے تابع ہوتا ہے ہم لوگوں کا احتجاج نعرے بازی اور چلائے گئے تنقیدی تیروں سے انکا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا مدعی جلیل کی جانب سے عدالتی فیصلے کو تسلیم کیا گیا ہے اور پیش کیے جانے والے 54 گواہان کا مکر جانا اس قوم کی اخلاقی پستی کا منہ بولتا ثبوت ہے اس تاریخی ظلم و ستم اور سفاکیت کو لیکر ہماری ہمدردیاں تو متاثرہ خاندان سے ہیں لیکن چونکہ عدالتیں مدعی اور گواہان کے بیانات سے چلتی ہیں لہذا میں یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں کہ سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے پانچ افراد کے ذمہ دار مدعی اور گواہان ہیں یا پھر وہی سانحہ ماڈل ٹاؤن اور پاگل صلاح الدین کے قاتل ہیں میں کون ہوتا ہوں یہ کہنے والا کے انصاف نہیں ہوا جب مدعی جلیل اور 54 گواہان کہہ رہے ہیں کہ
انصاف کے سبھی تقاضے پورے کیے گئے ہیں ہم عدالتی فیصلے سے مطمئن ہیں۔ ظلم ہوتا دیکھ کر جھکنے والا حسینی نہیں ہو سکتا بلکہ حسین کے انکار کی طرح ڈٹنے والا ہی حسینی کہلاتا ہے ریاستی دہشتگردی کے مرتکب شمری کردار اس کیس میں بھی بری ہو گئے ہیں۔پسِ پردہ کیا ہوا کیا نہیں سبھی کے اندازے بجا ہیں۔میں نے بہت سوچا کہ میں کیا کر سکتا ہوں بہت سوچا لیکن مایوس ہونے ہی لگا تھا کہ قران کی تلاوت کرتے ہوئے یہ آیت پڑنے کو ملی کہ وما ان رب نسِیاترجمہ:اور رب بھولنے والا نہیں!اِن بطش ربِ لشدِیدبے شک رب کی پکڑ بڑی سخت ہے!رب کی پکڑ کا انتظار کیجئے،،۔

(Visited 9 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *