ورلڈ ٹی ۔ بی ڈے ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر میاں عدیل عارف

دنیا میں ہر سال 24 مار چ کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ٹی ۔ بی ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں بیماری کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے ۔ اس سال سے یہ دن 
It’s Time For Action. It’s Time To End TB. 
کے تھیم کے تحت پوری دنیا میں منایا جا رہا ہے ۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ہر دن دنیا میں تقریباً 4000 ہزار افراد اس بیماری کا شکار بن جاتے ہیں ۔ 2008ء میں عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی کا تیسرا حصہّ اس بیماری کا شکار ہے ۔ پاکستان ٹی۔بی سے متاثر ہ ممالک کی فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے ۔ پاکستان میں ہر سال 5لاکھ نئے مریض سامنے آتے ہیں ۔ اور سالانہ تقریباً 70ہزار افراداس مرض سے لڑتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ 24مارچ 1882ء کو رابرٹ کوچ نے پہلی دفعہ ٹی ۔بی کے بیکٹریا کو الگ کیا اور اسے ایک متعدی بیماری قرار دیا ۔ 1946ء مین پہلی دفعہ ٹی ۔ بی کے خلاف کام کرنے والی دوائی 

Streptomycin 
تیار کی گئی ۔ 
ٹی ۔ بی (Tubercuiosis) کوسل اور تپ دق بھی کہا جاتا ہے۔یہ ایک متعدی یعنی ایک سے دوسرے کو لگنے والی بیماری ہے ۔یہ جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہے ۔ مگر عموماً پھیپھڑوں کو نشانہ بناتی ہے ۔ بلغم زدہ کھانسی ٹی بی کی خاص نشانی ہے ۔ شدید صورت میں کھانسی کے ساتھ خون بھی آتا ہے ۔ ٹی بی کا مریض جب کھانستایا چھینکتا ہے تو لعاب کے ننھے ننھے قطروں کے ساتھ جراثیم فضا میں شامل ہو جاتے ہیں جواسی ماحول میں سانس لینے والے دوسرے افراد کے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ اور انہیں اس خطر ناک مرض میں مبتلا کر سکتے ہیں ۔ ٹی بی قابل علاج ہے ۔ اگر وقت پر علاج معالجہ شروع کر دیا جائے تو مریض شفا یاب ہو جاتا ہے ۔ تاہم تاخیر کی صورت میں مرض شدت اختیار کر جاتا ہے اور شفا یابی کے امکانات محدود ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ ٹی بی کے جر اثیم میں داخل ہو نے کے بعد ضروری نہیں یہ انسان کو بیمار کر دیں ۔ یہ جسم کے اند ر خاموش یا خوابیدہ حالت میں رہ سکتے ہیں ۔ طبی اصطلاح میں اسے 
LatentTB 
کہا جاتا ہے۔ ٹی بی کی اس قسم میں مبتلا افراد خود کو بیمار محسوس نہیں کر تے اور نہ ہی ان میں کوئی علامت ظا ہر ہوتی ہے ۔ جب یہ جراثیم بیدار یعنی فعال ہو جائیں تو پھر وہ فرد ٹی بی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ ٹی بی کے جراثیم کسی انسان کے جسم میں بر سوں تک خوابیدہ حالت میں موجود رہ سکتے ہیں ۔ جب اس فرد کا مناعتی نظام یعنی امیون سسٹم کمزور ہو جائے تو پھر یہ فعال ہو جاتے ہیں ۔ یعنی انہیں کھلی چھٹی مل جاتی ہے اور یہ جسم کے جس حصے کو چاہیں نشانہ بنا سکتے ہیں مگر پھیپھڑے ان کا خصوصی ہدف ہو تے ہیں ۔ 
کچھ لوگوں کے اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات زیا دہ ہوتے ہیں ان میں مندرجہ ذیل افراد شامل ہیں :۔ 
۔*۔ شیر خوار اور چار سال سے کم عمر بچے 
۔*۔ جو لوگ گذشتہ دو سال میں ٹی بی کا شکار رہ چکے ہوں 
۔*۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ افرا د 
۔*۔ وہ لوگ جن کا جسمانی دفا عی نظام ذیابیطس ، گردوں کے ناکارہ ہو جانے یا کسی اور وجہ سے کمزور پڑ گیا ہو 
۔*۔ ٹی بی کے علاج کے مراکز میں کام کر نے والے افراد 
ٹی بی کی علامات کا دارومدار اس بات پر ہے کہ جسم کا کون سا حصہ متاثر ہو ا ہے ۔ عموماً ٹی بی کے جراثیم پھیپھڑوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ اسے پلمونری نیوبر کلوسس کہا جاتا ہے ۔ایکسٹر ا پلمونری ٹیوبر کلوسس ٹی بی کی وہ شکل ہے ۔ جس میں پھیپھڑوں کے علاوہ جسم کا کوئی حصہ اس سے متاثر ہو جاتا ہے ۔ تاہم ٹی بی کی یہ دونوں اقسام بہ یک وقت بھی پائی جا سکتی ہیں ۔ ٹی بی کی عمومی علامات میں بخار ، جسم پر کپکپی طاری ہونا ، سوتے ہوئے پسینے میں ڈوب جانا ، بھوک کا ختم ہو جانا ، وزن میں کمی اور تھکاوٹ شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ انگلیوں کے ناخنوں کے اطر اف سوجن بھی ہو سکتی ہے ۔ ٹی بی کے جراثیم فعال ہو جانے کے بعد 90فی صد کیسز میں پھیپھڑوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ سینے میں تکلیف اور کھانسی کا مسلسل اور طویل وقت تک ہون اور بلغم آنا پھیپھڑوں کی ٹی بی کی علاما ت ہیں ۔ تاہم یاد رہے کہ ایک چوتھائی مریضوں میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی ۔ بعض اوقات کھانسی کے ساتھ آنے والے بلغم میں خون کی آمیزش بھی ہو سکتی ہے ۔ بہت کم کیسز میں خون کا زیادہ مقدار میں اخراج بھی ہو سکتا ہے ۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب انفیکشن پھیپھڑوں کوخون پہنچانے والی مرکزی شریان تک پہنچ جائے ۔ 
ٹی بی کے 15سے 20فی صد کیسز میں انفیکشن پھیپھڑوں کے علاوہ دوسرے جسمانی اعضاء کو نشانہ بناتا ہے ۔ ٹی بی کی اس قسم میں کمزور مناعتی نظام کے حامل بالغ افر اد ا ور چھوٹے بچے مبتلا ہو تے ہیں ۔ایچ آئی وی کے شکار مریضوں کو خاص طور سے ایکسٹر ا پلمونری نیوبر کلوسس لا حق ہو تی ہے ۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد میں ایکسٹرا پلمونری نیوبر کلوسس کی شرح 50فی صدہے ۔ ایکسٹرا پلمونری نیوبر کلوسس زیادہ تر پھیپھڑے کی بیرونی جھلی ، مرکزی عصبی نظام ، نظام سیالہ ( لمف یٹک سسٹم ) ، تناسلی و بولی نظام ، ہڈیوں اور جو ڑوں کو ہدف بنا تی ہے ۔ 
ٹی بی کی ایک قسم 
DrugresistantTB 
کہلاتی ہے ۔ اگر ٹی بی کے مر یض پر دوائیں اثر نہ کر رہی ہوں تو پھر کہا جاتا ہے کہ اسے ڈرگ ریزسسٹنٹ ٹی بی ہو گئی ہے ۔ ٹی بی کے جراثیم پر ادویہ کا ا ثر نہ ہونے کی دوا اہم و جوہ ہو تی ہیں ۔ایک یہ کی متاثرہ جب دوا مقررہ مقدار اور تعداد میں اور باقاعدگی سے نہ کھا رہا ہو ۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے ۔ کہ اس فرد کو ٹی بی جس مریض سے منتقل ہو ئی ہے اسے ڈرگ ریزسسٹنٹ ٹی بی لا حق ہو۔ اگر کوئی شخص اس قسم میں مبتلا ہے تو پھر ڈاکٹر کیلئے اس کی ادویہ تبدیل کر ضروری ہے ۔ عموماً بار بار ادویہ تبدیل کر کے دیکھا جاتا ہے ۔ کون سی دوا اسے فائدہ پہنچا سکتی ہے ۔ اس سلسلے میں ادویہ سے حساسیت کا ٹیسٹ کروا لینا بے حد مفید ہوتا ہے ۔ اس سے پتا چل جاتا ہے کہ ایک فرد میں کن ادویہ کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے 
ٹی ۔ بی کی بیماری کا پتہ لگانے کیلئے چھاتی کا ایکسرے کروایا جاتا ہے ۔ جس میں پھیپھڑوں میں اس بیماری کی موجودگی کا پتہ چلایا جا سکتا ہے ۔ خون کے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔ جس میں سی بی سی ٹیسٹ اور ای ایس آر ٹیسٹ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ بلغم کا معائنہ کروایا جاتا ہے ۔ او ر جن مریضوں میں علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں ان میں جلد کا ٹیسٹ جسے پی پی ڈی ٹیسٹ بھی کہتے ہیں کیا جاتا ہے ۔ ٹی بی کا ایک حتمی ٹیسٹ کو انٹی فیرون ٹیسٹ بھی ہے ۔ 
ٹی بی کے علاج میں چھ ماہ کا ادویات کا ایک کورس کروایا جاتا ہے ۔ جس کا باقاعدگی سے پور ا کر نا نہایت ضر وری ہے ۔اور اس میں فالو اپ بہت ضروری ہے ۔ 
ٹی ۔ بی کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے عوامی آگاہی مہم بہت ضروری ہے ۔ اگر گھر میں کوئی ٹی ۔ بی کا مریض ہو تو اس کے برتن تولیہ اور استعمال کی دوسری چیزیں الگ کردینی چاہئے اور فیس ماسک کا استعما لازمی کیا جائے ۔ جگہ جگہ تھوکنے سے پرہیز کیا جائے تاکہ جراثیم ایک شخص سے دوسرے میں منتقل نہ ہوں ۔ پاکستان میں ٹی بی کے پھیلاؤ کی کئی وجوہ ہیں ۔ سب سے بڑی وجہ تعلیم کا فقدان ہے ۔ بڑی آبادی دیہات میں رہائش پذیر ہے ۔ دیہی آبادی کا وسیع حصہ پس ماندہ ہے ۔ تعلیم نہ ہو نے اور غربت کی وجہ سے دیہات میں رہنے والے لوگ علاج معالجے سے بے پروائی برتتے ہیں ۔قریبی شہروں میں واقع اسپتال کا رخ وہ طبیعت زیادہ بگڑ جانے ہی پر کرتے ہیں ۔ دیہاتیوں کے علاوہ قصبوں اور شہروں کے رہائشیوں کی بڑی تعداد میں بھی یہی رجحان پایا جاتا ہے ۔ کھانسی یا بخار وغیرہ ہو تو عا م طور پر میڈیکل اسٹور ز سے دوائیں خرید کر خود ہی علاج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ طبیعت بہتر نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کیا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر ابتداء میں کھانسی اور بخار ہی کی دوائیں دیتے ر ہتے ہیں ۔ ٹی بی کے ٹیسٹ کی نوبت آتے آتے کئی ہفتے اور بعض اوقات کئی ماہ گزر جاتے ہیں ۔ یوں ٹی بی کی تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے ۔

(Visited 25 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *