Tag Archives: سید سردار احمد پیرزادہ

ایٹمی جنگ کی دھمکیاں امن نہیں کولڈوار ہیں ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

انسانوں کی طرح جنگوں کی بھی بہت سی اقسام ہیں۔ انہی میں سے ایک ”کولڈوار“ ہے جس کا ذکر سوویت یونین کے خاتمے سے پہلے بہت عام تھا۔ جونہی سوویت یونین ڈوبا، لوگوں نے سمجھ لیا کہ کولڈوار کا زمانہ

ایٹم بم ایک اشارہ ہی تو ہے ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

بچ جانے والے پاکستان کو محفوظ رکھنے کے لیے ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 20 جنوری 1972ء کو ملتان میں پاکستان کے چیدہ چیدہ سائنس دانوں کا اجلاس بلایا اور اُن کی توجہ اِس

سمندر کے کنارے آباد ایک بستی ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

سمندر کے کنارے ایک بستی آباد تھی۔ بارشوں کا موسم تھا۔ سمندر اور بستی کی آبادی پر بوندیں ٹپ ٹپ گر رہی تھیں۔ آبادی کا ہر فرد اداس اور کمزور تھا۔ کھانے پینے کا سٹاک ختم ہوچکا تھا۔ کاروبار ٹھپ

پِنا کھولنا، گُنجل پڑنا اور کھلارا ڈالنا ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

چند محاوروں پر غور کرتے ہیں۔ پہلا محاورہ ”پِنا کھول دینا“ ہے۔ پِنے سے مراد وہ رسی، دھاگہ یا پتنگ کی ڈور ہوتی ہے جو ایک گول گیند کی مانند لپٹی ہوتی ہے۔ اِ س چھوٹے سے گولے میں سینکڑوں

کرم کے موتی! ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

آئیے! ایک کہانی پڑھتے ہیں۔ ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ امریکہ میں کنٹکی ریاست کی مشرقی پہاڑیوں میں ایک مسلمان امریکی بوڑھا اپنے خاندان کے ساتھ اپنے فارم ہاؤس میں رہتا تھا۔ اُس فارم ہاؤس میں اُس بوڑھے کا

آئی ایم ایف اور مکھی کھاکر سوکھے کی بیماری کا علاج ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

پرانے ناواقف دیہاتوں کی بات ہے کہ جب وہاں کوئی بچہ بہت کمزور ہوتا جسے ”سوکا“ یعنی ”سوکھے کی بیماری“ کہا جاتا تو بعض اوقات اُس کا علاج دیسی طریقے کے مطابق کیا جاتا۔ علاج کے نسخے کے مطابق بچے

ہماری سیاست میں چیخوف کی کہانی دشمن کے دو کردار ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

روسی رائٹر چیخوف دنیائے ادب کے چوٹی کے چند عظیم لکھاریوں میں سے ایک ہے۔ وہ 29 جنوری 1860ء کو پیدا ہوا اور 44 برس کے بعد تپ دق کے باعث 15 جولائی 1904ء کو دنیا چھوڑ گیا۔ پیشے کے

کیلے اور سیاست میں حیران کن مماثلت ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

سیاست میں ’’بنانا ری پبلک‘‘ کی اصطلاح عام ہے۔ اِسے سب سے پہلے امریکی مصنف اوہینری نے 1901ء میں لاطینی امریکہ کی ریاستوں کے لیے ایجاد کیا۔ اس سے مراد وہ ریاستیں تھیں جہاں سیاست اور معیشت انتہائی غیرمستحکم ہوتی۔

ملکی دفاع کے لیے انگریزی چینلز اور شوز کی ضرورت ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

پاکستان کی ہسٹری کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ ہمارے ہاں ٹیلی ویژن میڈیا کی ترقی فوجی حکمرانوں اور پاک بھارت تنازعات کی مرہونِ منت رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگ اِسے غیرتحقیقی جملہ سمجھیں۔ لہٰذا ٹی وی اور چینلز کے

غیرمعیاری کسٹوڈین شپ ۔ ہم سانپ تو نہیں ہیں ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

انسانی ہسٹری کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جب سے مرد اور عورت کے درمیان شادی کا رواج پڑا اُسی وقت سے دونوں کے درمیان علیحدگی یا طلاق سے پیدا ہونے والے مسائل بھی شروع ہوئے۔ یہ الگ بات

پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خطے کو تباہی سے بچایا ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

یہ 1987ء کا سال تھا جب بھارت اور پاکستان کی سرحدوں پر سخت کشیدگی تھی۔ عین اُسی وقت پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سگنل موصول ہوئے کہ بھارت پاکستان پر ایک بڑا حملہ کرنے والا ہے۔ اِن اطلاعات کے

سوبرس پرانی کہانی ’’وار‘‘ اور آج کے نریندر مودی ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

بیسویں صدی کے نوبل انعام یافتہ اطالوی رائٹر ’’لیوجی پیراندلو‘‘ کا ایک افسانہ ’’وار‘‘ ہے۔ اس شہرۂ آفاق کہانی کا اردو ترجمہ انٹرنیشنل سطح پر پہچانے جانے والے اردو کے پاکستانی مترجم نیر عباس زیدی نے ’’جنگ‘‘ کے نام سے

کچھ بیوہ سوالات ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

بیوہ کا لفظ آسانی سے سمجھ میں آنے والا ہے۔ اس سے مراد جیون ساتھی کامرجانا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں سوال اور جواب بھی ایک دوسرے کے جیون ساتھی ہوتے ہیں۔ اگر کسی سوال کا کبھی کوئی جواب نہ

انٹرنیشنل سطح پر جمہوریت کی جگہ ڈکٹیٹرشپ کا راج ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

ہم سب یہ مانتے ہیں کہ جمہوریت ایک اچھا انتظامی ڈھانچہ ہے۔ جمہوریت کو شاندار سیاسی وٹامن کہنے کی ابتداء یورپ، امریکہ اور غیرمسلم ممالک سے ہوئی۔ تاہم گزشتہ 70 برسوں کے دوران سیاست کا یہ ٹونک ایشیاء، افریقہ، مشرق

عافیہ صدیقی کی رہائی کا تاج عمران خان کا منتظر ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

جب سے انسانی تاریخ لکھی جارہی ہے اُس وقت سے ایک ملک کے باشندوں کا دوسرے ملکوں میں جاکر مقدمات میں پھنس جانے کا ذکر ملتا ہے۔ بعض اوقات ایسے کچھ افراد کے سرقلم ہو جاتے ہیں، کچھ جیلوں میں

ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں یہ ضرور پڑھیئے ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان میں حالیہ آمد کے موقع پر مثبت معاشی و سیاسی اثرات کے حوالے سے بہت بات کی جارہی ہے۔ ایسی شخصیت جو اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بناء پر نوجوانی میں

اب تم ہی کہو کیا کرنا ہے، اب کیسے پار اترنا ہے ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

تھوڑے عرصے پہلے کی ریل گاڑی کے سفر کا منظر ذہن میں لاتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ریل کسی چھوٹے قصبے کے سٹیشن پر رک جاتی۔ کچھ مسافر ریل گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر چہل

سِول یا فوجی ہر حکمران کی خواہش آزاد خارجہ پالیسی ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

ناکام، مایوس اور مستقبل سے خوفزدہ اشرف غنی نے پاکستان کے حوالے سے جو حالیہ بیان دیا ہے وہ نہ صرف پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے بلکہ ٹیکنیکل طور پر اُن سِول ایکٹوسٹس کے خلاف بھی جاتا ہے

آئین آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

آج سے ساڑھے چار ہزار برس پہلے کا زمانہ تھا جب موجودہ عراق کے علاقے میں لاگاش کے سمیری بادشاہ یوروکجینا نے اپنی حکومت کے لیے ایک قانونی دستاویز تیار کی۔ اسے دنیا کا پہلا آئین مانا جاتا ہے۔ اس

کیمپ جیل سے آصف ہاشمی کا جسٹس (ریٹائرڈ) ثاقب نثار کے نام کھلا خط ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے سابق چےئرمین سید آصف ہاشمی نے کیمپ جیل لاہور سے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جو قارئین کے